خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 207

سال 1927ء ۲۰۷ خطبات محمود ہوگی۔ چند دن کوئی کام کرنے سے بھی نفع نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کچھ دن ساری ساری رات نوافل پڑھتے رہو ۔ لیکن پھر چھ ماہ تک نوافل کے ساتھ ہی فرائض بھی چھوڑ دو تو قلب ایسا ہی زنگ آلود ہو جائے گا جیسا ایک کافر کا ہو گا۔ چھ ماہ تو بہت بڑا عرصہ ہے ایک دن فرائض ترک کرنے سے بھی ایمان سکڑ کر استارہ جائیگا کہ جتنا کسی اونے درجہ کے مومن کا بھی نہیں ہو گا۔ پھر ایک دن بھی زیادہ ہے۔ میں تو کہتا ہوں اگر کوئی پورا ایک سال ساری ساری رات کھڑا رہ کر عبادت کرتا رہے۔ اور پھر ایک وقت کی نماز جان بوجھ کر سو جانے یا بھول جانے یا کسی آفت کے آجانے کی وجہ سے نہیں اراد تا چھوڑ دے تو اس کا دل سیاہ ہو جائے گا۔ بات یہ ہے کہ استقلال ہی اصل چیز ہے جو نیکی پیدا کرتا ہے اور فاتح بناتا ہے۔ میں تو یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی بھی مسلمان دین کی خدمت سے پیچھے رہے۔ مگر کم از کم اپنی جماعت کے لئے تو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ کوئی قومی ۔ تمدنی اور دینی کام شروع کرے اور پھر چند دن کے بعد چھوڑ کے بیٹھ رہے۔ پس میں اپنی جماعت کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ استقلال سے کام کرے۔ اسی طرح میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جس طرح استقلال کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کامیابی کے لئے روپیہ خرچ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ میں نے ریز رو فنڈ کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ مگر بہت کم لوگوں نے ادھر توجہ کی ہے۔ چند کو چھوڑ کر بہت ایسے ہیں جنہوں نے زبانی وعدے کئے مگر عملا وہ ایسے ہی نکلے جیسے کہ انہوں نے وعدے نہ کئے تھے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ اور ایک زندہ قوم میں ایسی مثال ماتم کی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست سستی کو چھوڑ کر اپنے کام کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ اور اس طرح کام کریں گے کہ تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچا سکیں۔ موجودہ زمانہ میں تو حالات ہی اس قسم کے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے وقت کا خیال رکھنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ مقابلہ ان اقوام سے ہے جن کے پاس آمدو رفت کے ذرائع بہت وسیع ہیں۔ اور وہ تھوڑے سے تھوڑے وقت میں حالات پر قابو پا سکتی ہیں۔ پہلے زمانہ میں تو یہ حال تھا کہ ایک شخص پیدل گھر سے نکل کھڑا ہوتا بھوکا پیاسا جنگل کی بوٹیاں کھا کر گزارہ کرتا اور تبلیغ کرتا جاتا تھا۔ مگر آج کون بے وقوف ہے جو اس طرح کرے ۔ جتنی دیر میں اس طرح چل کر وہ کہیں پہنچے گا اتنے عرصہ میں وہاں کے لوگوں کو دوسرے پوری طرح گمراہ کر چکے ہونگے ۔ مثلاً یہاں سے کوئی بنگال میں تبلیغ کرنے کے لئے پیدل روانہ ہو تو کم سے کم چھ ماہ میں وہاں پہنچے گا۔ اور پھر مجاہد نہ کہلائے گا کیونکہ وہ ریل کے ذریعہ وہاں جلدی پہنچ کر بہت کچھ کام کر سکتا تھا۔ پس وہ ذرائع جو اس وقت پیدا ہو چکے ہیں وہ