خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 199

سال 1927ء ۱۹۹ خطبات محمود پر آپ نے تیرنے کی مشق شروع کردی۔ اور اس قدر مشق حاصل کر لی کہ سکھ کو مقابلہ کرکے ہرا دیا۔ یہ روح ہوتی ہے جس سے کوئی قوم آگے بڑھ جاتی ہے۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہر شعبہ زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ مسلمان کو ست نہیں ہونا چاہئے ۔ وہ کسی بھی ثانوی شغل میں حصہ لے اس کو اسی طرح پورا کرنا چاہئے جس طرح اول شغل کو پورا کرنا فرض سمجھتا ہے۔ جو لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں کو اچھی طرح نہیں کر سکتے وہ بڑے بڑے کاموں کو کب انجام دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر دفتروں کے کام ہیں تجارت کا کام ہے اور پیشے ہیں۔ ان ان کا کا تعلق اس اس نے زمانہ میں دین سے ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ا کے زمانہ میں لڑائی کا تھا۔ لڑائی کوئی مذہبی فرض نہیں ہے۔ لیکن ضرورت کے وقت وہی بڑا فرض ہو گئی تھی۔ صحابہ نے لڑائی میں کمال حاصل کر لیا۔ ڈپلومیسی میں خوب ماہر تھے۔ سفارت کے کام میں کمال حاصل تھا ان کے پاس ایک شخص صلح کے لئے آیا۔ اس کے متعلق انہوں نے معلوم کر لیا کہ قربانی کو پسند کرتا ہے۔ سو انہوں نے قربانی کے جانور مہیا کر کے اس کے سامنے سے گزارے۔ غرض مومن کی چاروں طرف نظر ہونی چاہئے۔ خدا تعالیٰ کی نظر چاروں طرف جاتی ہے۔ اس لئے خدا کی صفات کو اپنے اندر لیکر بندے کی نظر بھی چاروں طرف جانی چاہئے۔ پس یہ گر ہے جو اللہ تعالی نے سورۃ فاتحہ میں سکھایا ہے جس کو ہماری جماعت کے لوگوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ جو لوگ دین کے اولین فرائض میں پورا حصہ لیتے ہیں۔ اور انہیں کما حقہ ادا کرتے ہیں۔ وہ شغل ثانوی میں بھی پوری مستعدی سے کام کرتے ہیں۔ بعض ان کاموں کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے یہ سمجھ کر کہ یہ دین یہ دین کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر یہ دین کا ر یہ دین کا حصہ نہیں تو لغو کام تو لغو کام ہیں۔ پھراد ادھورے طور پر بھی کیوں کرتے ہیں۔ ان کو بالکل ترک کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کام بھی دین کا حصہ ہیں۔ ان کو بھی پوری مستعدی سے انجام دینا چاہئے۔ اور ان تمام شرائط کے ساتھ انجام دینا چاہئے جن کے ساتھ کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہماری جماعت کو سمجھ عطا فرمائے اور اعمال کی توفیق دے۔ آمین۔ لو الفاتحة : (الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۲۷ء)