خطبات محمود (جلد 11) — Page 176
سال 1927ء 144 خطبات محمود کرے کہ بد مستی یا لا ابالی میں کسی وجہ سے دنیا کے غموں کو اپنے پاس نہ آنے دے۔ پس پہلی چیز رنگیلے شخص کے لئے بد مستی ہے۔ لیکن ہر شخص جسے عقل سے ذرا بھی مس ہو وہ جانتا ہے کہ دنیا سے شراب کا مٹانے والا ایک ہی شخص ہے یعنی محمد ال - اگر نعوذ باللہ آپ میں رنگیلا پن ہو تا تو اس وقت جب کہ اس کتاب کے لکھنے والے کے باپ دادا مشکوں کے مٹکے شراب کے اڑاتے تھے۔ بلکہ دیوی دیوتاؤں کو بھی پلاتے۔ کو بھی پلاتے تھے۔ اس وقت محمد ال شراب کی ممانعت کا حکم کا حکم نہ دیتے۔ مگر اس زمانہ میں کہ آپ کی قوم دن رات شراب میں مست رہتی تھی آپ نے شراب کی ممانعت کا حکم دیا۔ آپ کے اس حکم کا اثر اور تصرف دیکھو۔ کچھ لوگ ایک جگہ بیٹھے شراب پی رہے تھے اور نشہ کی حالت میں تھے کہ باہر سے آواز آئی۔ شراب حرام کر دی گئی۔ اس وقت ایک شخص نے جو اس مجلس میں شامل تھا کہا اٹھ کر پوچھو تو سہی کہ اس بات کی تفصیل کیا ہے۔ مگر اس نشہ کی حالت میں ایک دوسرا شخص سونٹا اٹھا کر شراب کے مٹکے پر مارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب ایک شخص کہہ رہا ہے کہ شراب حرام ہو گئی ہے تو اب میں پہلے مشکا تو ڑ دونگا پھر پوچھوں گا کہ کیا کہتا ہے۔ آواز یہ آئی ہے کہ محمد اللہ نے شراب حرام کر دی ۔ اگر یہ بات غلط بھی ہے تو بھی میں پہلے مٹکا توڑوں گا پھر اس کی تصدیق کرونگا۔ چنانچہ وہ مٹکا تو ڑ دیتا ہے۔ اور پھر پوچھتا ہے کیا رسول کریم ال نے شراب حرام کردی؟ جب بتایا جاتا ہے کہ ہاں آپ نے شراب حرام کر دی تو سب پکار اٹھتے ہیں اچھا ہم نے شراب چھوڑ دی۔ میں پوچھتا پوچھتا ہوں کیا وہ انسان جس ۔ جس نے شراب کو ایک ملک کے ملک سے ایک حکم کے ساتھ ایسے طور پر مٹا دیا کہ پھر کسی نے اس کا نام نہ لیا۔ اور اس قوم سے شراب چھڑائی کہ جو کم سے کم دن رات آٹھ دفعہ شراب پیتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اس کی طرف رنگیلا پن منسوب کیا جا سکتا ہے؟ اگر وہ رنگیلا کہلا سکتا ہے تو ہندوؤں کے بزرگ جو شراب سے منع نہیں کرتے تھے بلکہ خود شرابیں پیتے تھے ۔ کیا کہلائیں گے؟ ۔ رنگیلا پن کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ایسا انسان انجام کی کوئی فکر نہ رکھے۔ لیکن محمد کی تعلیم کو پڑھو اور پھر بتاؤ کیا اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کتاب میں جو آپ کو خدا تعالی کی طرف سے ملی۔ دیکھو کس طرح انسان کو بار بار موت یاد دلائی گئی ہے۔ اور کس طرح آپ اپنے ماننے والوں کو تلقین فرماتے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے ۔ سوتے جاگتے۔ چلتے پھرتے موت کو یاد کرو۔ کیا دنیا کی کوئی کتاب ایسی ہے جو ، جو عاقبت سے اتنا ڈراتی ہو جتنا قرآن کریم ڈراتا ہے۔ قرآن کریم کا حجم