خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 11

خطبات محمود 11 سال 1927ء بعض اپنوں کی طرف سے اور بعض غیروں کی طرف سے ہیں۔ اور بعض ایسے امور پیش آرہے ہیں کہ جو ہندوستان ستان کی سیاست اور تمدن پر اثر ڈال رہے ہیں۔ اس لئے میں ! میں ان امور کے متعلق وضاحت کے ساتھ بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ اپنوں کے لئے ہدایت اور دوسروں کے لئے علم کا موجب ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ہی پیشگوئی جس میں دو شخصوں کے قتل کی خبر دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک کے قاتل کو برا نہیں کہا جاتا اور دوسرے کے قاتل کو برا کہا جاتا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے۔ اگر ایک کا قتل جائز اور درست تھا تو دوسرے کا بھی جائز اور درست ماننا چاہئے۔ اگر ایک کا قاتل قابل ملامت نہیں تو دوسرے کا بھی قابل ملامت نہیں۔ اگر یہ فعل جائز ہے تو دونوں کے لئے جائز ہے۔ اگر نا جائز ہے تو دونوں کے لئے نا جائز ہے۔ اور اگر قاتل قابل ملامت ہو سکتے ہیں تو دونوں ہی قابل ملامت ہوں گے ۔ اگر نہیں تو دونوں ہی ملامت کے قابل نہیں۔ یہ شبہ در حقیقت ناواقفیت سے پیدا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ت یہ ہے کہ لیکھرام صاحب کا قاتل پکڑا نہیں گیا۔ اور شردھانند صاحب کے قتل کا ملزم پکڑا گیا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے ہمارا فیصلہ بھی مختلف ہو جائے گا۔ یہ قدرتی بات ہے کہ جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہو تب تک وہ مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا اور بغیر حالات دیکھے ہم یونہی کسی کو مجرم نہیں کہہ سکتے اور نہ اسے قابل مواخذہ ٹھہرا سکتے ہیں۔ ایک ہی شخص ایک فعل کے کرنے پر قابل مواخذہ ہوتا ہے ۔ اور دوسرا اس فعل کے کرنے پر مجرم نہیں ہوتا۔ یہی قتل کا فعل ہے بعض دامہ یہ فعل بجائے ملامت اور سزا کے تعریف اور انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایک سپاہی میدان میں دشمن کا جتنا زیادہ نقصان کرے گا اور جتنی زیادہ خونریزی کرے گا۔ اتنا ہی زیادہ اس کو انعام ملے گا۔ اور اس کی تعریف کی جائے گی ۔ لیکن اسی فعل پر دوسرا شخص مجرم ٹھرایا جا کر سزا کے نیچے آئے گا۔ جس نے بغیر استحقاق کے عمد اوہ فعل کیا۔ دنیا میں کوئی فعل اپنی ذات میں معیوب نہیں ہو تا بلکہ حالات کے ماتحت برا ہوتا ہے۔ اگر وہ فعل ایسے حالات میں کیا جائے کہ جس میں وہ فعل جائز اور پسندیدہ ہو تو اس فعل کا کرنے والا قابل تعریف ہو گا۔ اگر کوئی شخص ایسے حالات میں وہ فعل کرے کہ وہ اس فعل کے کرنے میں اخلاقایا قانونا مجبور ہے۔ تب بھی وہ قابل ملامت نہیں ہو گا۔ اگر ان میں کوئی بات نہ ہو تو وہ مجرم ہو گا۔ مثلاً قاتل نے شریعت کے ماتحت اپنے ملک اور قوم کی حفاظت کے لئے میدان جنگ میں دشمن کے بہت