خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 159

سال 1927ء ۱۵۹ ۲۰ خطبات محمود موجودہ مشکلات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے (فرموده ۲۴۔ جون ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَ إِخْوَانُكُمْ وَ أَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَأَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (توبه : ۲۴) اس آیت کو اس خطبہ جمعہ میں جو میں نے ڈلہوزی کے مقام پر پڑھا تھا تلاوت کرتے ہو۔ ن کرتے ہوئے مجھے معلوم نہ تھا کہ ہماری جماعت کے ایک فرد کو بھی اس قسم کا ایک موقع پیش آنے والا ہے جس نے اس آیت کے حکم کے ماتحت اپنے آرام و آسائش کو رسول کریم ﷺ کی عزت کے لئے قربان کر دیا ۔ اللہ تعالی کے ابتلاؤں اور آزمائشوں کی خواہش کرنا اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن جب کسی کی خدا تعالی کی طرف سے آزمائش ہو۔ اور وہ اس میں پورا اترے تو ایسا انسان اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اسے مبارک دی جائے کہ اس نے حق ادا کیا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ (الاحزاب : (۲۴) اور فرماتا ہے۔ خدا کی راہ میں مرنے والوں کو مردہ مت کہو ۔ وہ زندہ ہیں۔ جو خدا کی راہ میں جان دیتا ہے اسے کیوں مردہ کہہ کر دو سروں کے دلوں میں ڈر اور خوف پیدا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کے دین کی عظمت کے لئے تکلیف اٹھانا خوشی اور مسرت کا موجب ہے۔ ایسا انسان اتنا ہمدردی کا مستحق نہیں جتنا مبارکباد کا مستحق ہے۔ میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہو گا کہ اس وقت جب کہ رسول کریم اس کی عزت پر ناپاک سے ناپاک حملے ۔ حملے کئے جارہے ہیں۔ اور آپ کی عزت کی حفاظت کے لئے موجودہ قانون میں کوئی طاقت نہیں ہے وہ کیا کریں۔ کون سی قربانیاں کریں۔