خطبات محمود (جلد 11) — Page 141
سال 1927ء ۱۴۱ خطبات محمود ازالہ ہوتا ہے۔ چنانچہ گورنمنٹ کا قانون بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ گورنمنٹ کا قانون یہ نہیں کہ ایک معزز شخص کو برا کہنے پر ایسا آدمی سزا پاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ چونکہ وہ اس بزرگ کے ماننے والوں کے دلوں کو تکلیف دیتا ہے اس لئے اسے سزادی جاتی ہے۔ پس ہزار سول کریم ان ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمارے احساسات کی حفاظت کے لئے ہے، اور جو شخص رسول کریم کی بد گوئی کرنے والے کی سزا پر خوش ہو جاتا ہے وہ رسول کریم اے کی عزت پر اپنے احساسات کو مقدم کرتا ہے۔ ہمیں کسی کے قید ہونے پر نہیں بلکہ اس امر پر خوشی ہوئی چاہئے کہ رسول کریم ان کی پاکیزہ زندگی کے متعلق جو لوگوں کو بد خنیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ دور ہو جائیں اور اپنی تمام تر کوششیں ہمیں اس امر کے لئے صرف کر دینی چاہئیں۔ پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے لئے یہ کوئی خوشی نہیں کہ در تمان کا ایڈیٹریا اس کا نامہ نگار قید ہو جائیں۔ اور پھر یہ بھی تو ابھی معلوم نہیں کہ وہ ضرور ہی قید ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ قید نہ ہوں۔ کیونکہ صوبہ کی عدالت عالیہ کا ابھی ایک فیصلہ ہو چکا ہے جس میں ایک ایسا ہی شخص بری کر دیا گیا ہے اور اگر ماتحت عدالتیں انہیں قید بھی کر دیں ۔ تو ممکن ہے کہ ان کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہو اور وہ کسی ایسے حج کے سامنے پیش ہو جو اس مضمون کے متعلق یہی سمجھتا ہو کہ اس سے منافرت پیدا نہیں ہوتی تو ایسا حج پھر یہی فیصلہ کر دے گا جو صوبہ کے اعلیٰ حاکم نے حال میں کیا اس لئے ہمارے لئے اس وقتی خوشی میں فائدہ نہیں۔ ہے۔ اگر ہم رسول کریم اس سے محبت رکھتے ہیں تو ہماری خوشی اس میں ہونی چاہئے ۔ کہ ہم دنیا سے رسول کریم ان کی نسبت شکوک و شبہات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں۔ بچی محبت قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ کسی شخص کے قید ہو جانے میں ہم کون سی قربانی کرتے ہیں۔ قید گورنمنٹ کراتی نے ہے ۔ پس اس فعل میں اگر کوئی خوبی ہے تو اس کی مستحق گو ر نمنٹ ہے نہ کہ مسلمان۔ مسلمان تب ہی سرخرو ہو سکتے ہیں جب کہ وہ رسول کریم ال کی محبت کا عملی ثبوت دیں۔ اور آپ الی کی عزت کے قیام کے لئے اپنے اوقات اور اپنے اموال خرچ کر کے دکھائیں جو شخص صرف کسی کے قید ہونے پر تسلی پا جاتا ہے۔ اور رسول کریم کی عزت کے قیام کے لئے خود کوئی کوشش نہیں کرتا وہ اپنے محبت کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ اور اس کی محبت کی خدا تعالیٰ کے نزدیک اور اہل دل کی نگاہ میں ایک ذرہ بھر قدر نہیں۔ پس میں عام مسلمانوں کو عموماً اور اپنی جماعت کے لوگوں سے خصوصاً