خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 133

سال 1927ء الم السير خطبات محمود روکتا کون ہے وہ اس کوشش کو بھی جاری رکھیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس وقت چند سال تک ایک فیصلہ ہونے والا ہے۔ اور اسی فیصلے پر مسلمانوں کی ترقی کا انحصار ہے۔ اور جو بات چند سال میں حاصل ہو سکتی ہے۔ کیا اس کے لئے سینکڑوں اور ہزاروں سال انتظار کرنا درست ہے۔ مسلمانوں کو آج ضرورت ہے کہ وہ آج اس سیاسی جھگڑے کا فیصلہ کریں۔ تو کیا جس فیصلے کی انہیں آج ضرورت ہے اس کے لئے کسی دور کے زمانہ کا منہ دیکھا جائے ۔ اور پھر یہ بھی یقینی امر نہیں کہ ضرور ہی اتنے عرصہ کے بعد یہ بات حاصل ہو جائے گی۔ کیونکہ کوئی بھی ایسا نہیں جو کے سات آٹھ سو سال یا ہزار دو ہزار سال میں مسلمانوں سے یہ منوالیا جاسکتا ہے کہ جن کو تم مانتے ہو ۔ انہیں چھوڑ دو ۔ یا جن مسئلوں کو تم ترجیح دیتے چلے آرہے ہو ۔ انہیں ترجیح نہ دو۔ یا جن باتوں کی تم عزت کرتے چلے آرہے ہو ان کو حقیر سمجھو۔ یا جن کو تم سینکڑوں سالوں سے کافر کہتے ہو ان کو کافر نہ کہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ آج کل دنیاوی امور کی محبت بڑھ رہی ہے۔ لیکن اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ یورپ کے اثر کے نیچے بت پرستوں اور مشرکوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کو بھی کافر نہیں کہنا چاہتے ۔ وہ صرف دنیاوی طور پر ایسا کرنا نہیں چاہتے ۔ یہ مذہبی وسعت نظری نہیں ۔ بلکہ اس سے تو مذہب کی قدر کم ہوتی ہے ۔ گو بعض لوگوں کے نزدیک اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ مگر یہ فائدہ دنیاوی امور کے لحاظ سے ہے کیونکہ یہ مذہبی وسعت خیال کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن اگر اس رو کو بھی جاری رکھیں۔ تو بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سات آٹھ سو سال میں ہم تمام لوگوں کو ہم خیال بنالیں گے ۔ پس میں نے ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک تعریف اسلام کی یہ کی تھی جو مذہبی تعریف تھی۔ اور کہا تھا کہ اس بات کو مسلمانوں کے فرقوں کی صلح کی بنیاد نہ بنائیں کہ پہلے اختلاف مٹانے چاہئیں۔ یہ اختلاف جلدی نہیں مٹ سکتے۔ اور مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ جلدی متحد ہوں اور اس مقابلے کا جلد فیصلہ ہو ۔ دوسری تعریف اسلام کی میں نے یہ کی تھی اور یہ سیاسی تعریف ہے کہ جبکہ شیعہ سنیوں کو اور سنی شیعوں کو حنفی اہل حدیث کو اور اہل حدیث حنفیوں کو اور چکڑالوی وہابیوں کو اور وہابی چکڑالویوں کو کافر کہتے ہیں۔ تو اس کے مقابلہ میں ہندو اور عیسائی لوگ ان باتوں سے متاثر نہیں ہوتے ۔ یہ سن کر کہ حنفی شیعوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ چونکہ شیعوں کو یہ لوگ کافر کہتے ہیں اس لئے شیعوں کے ساتھ اور معاملہ کرنا چاہئے ۔ اور ایسا ہی ایک حنفی کے متعلق کافر کا لفظ سن کر ہندو یہ نہیں کہتے کہ آؤ حنفیوں کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں۔ جو ہم مسلمانوں سے کرنا چاہتے ہیں۔ بلکہ وہ تمام