خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال 1927ء کا باعث ہوئے۔ اب بھی مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھوں سے دوستانہ تعلقات قائم کریں اور بتائیں کہ مسلمانوں کے ان کے ساتھ جو تعلقات رہے ہیں وہ اوروں کے نہیں رہے۔ لوگ سکھوں کو بے جا جو شیلے اور کم سمجھ کہتے ہیں۔ لیکن مجھ سے جو ملے ہیں۔ میں نے ان میں سعادت پائی ہے خصوصیت کے ساتھ ان پر بڑی اثر کرنے والی بات یہ ہے کہ مسلمان مواحد ہیں۔ اور سکھوں میں توحید پر بڑا یقین پایا جاتا ہے۔ چونکہ خدا کی محبت اس قوم کو اسلام کی طرف لانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس لئے ان سے صلح اور دوستی رکھنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ پس جہاں تک ہو سکے ۔ مسلمانوں کو سکھوں سے محبت رکھنی چاہئے۔ اور انہیں اپنے خلاف ہندوؤں کا ہتھیار نہیں بننے دینا چاہئے۔ بیشک اس میں مشکلات بھی ہیں مگر ان کا علاج کرنا چاہئے ۔ ایک سب سے بڑی مشکل تو یہ ہے کہ جہاں سکھ مرد توحید کے قائل ہیں۔ وہاں سکھوں کی عورتیں ویسی ہی مشرک ہیں جیسے اور ہندو عور تیں۔ اور ان کے گھروں میں ہندوانہ رسوم موجود ہیں۔ اس کا بہت بڑا اثر مردوں پر بھی پڑتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ایک دفعہ مجھے اس بات کا خاص طور پر تجربہ ہوا۔ میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی کہ ہم چند بچے ہوائی بندوق لے کر شکار کے لئے نکلے ۔ یہاں سے قریب ہی ایک سکھوں کا گاؤں ہے ۔ جس کا نام ناس پور ہے۔ جب ہم وہاں گئے تو گاؤں کے اٹھارہ اٹھارہ انہیں انیس سال کے نوجوان اور کچھ ان سے بھی بڑی عمر کے ہمارے ساتھ مل گئے ۔ اور شکار بتانے لگے ۔ کہ یہ مارو۔ وہ مارو۔ اتنے میں ایک عورت نکلی۔ جس نے ہمیں تو کہا کیوں جیو ہتیا کرتے ہو۔ اور سکھ لڑکوں سے کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔ تمہارے سامنے جیو ہتیا ہو رہی ہے۔ اس پر ان لڑکوں کی حالت یک لخت بدل گئی۔ وہ کہنے لگے تم کیوں شکار کرتے ہو۔ یہاں سے چلے جاؤ۔ اس وقت مجھے حیرت ہوئی کہ ابھی تو یہ خود ہمیں لائے تھے ۔ اور ہمارے ساتھ ساتھ شکار بتاتے پھر رہے تھے ۔ اور ابھی خلاف ہو گئے ہیں۔ اس وقت تو مجھے اس کی وجہ سمجھ میں نہ آئی تھی۔ لیکن اب معلوم ہے کہ یہ ان کی ماؤں کا اثر تھا جو ان پر ہوا۔ غرض اس وقت تک سکھ عورتوں میں توحید کا نام و نشان بھی نہیں۔ اور ہندوؤں سے پرانے میل جول کی وجہ سے ابھی تک ان میں شرک پایا جاتا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ مسلمان عورتیں سکھ عورتوں سے تعلقات بڑھا ئیں۔ اور ان کو توحید سے آگاہ کریں۔ سکھ خود؟ خود بھی ان کی اصلاح کر رہے ہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ سکھ عورتیں بھی موقد ہو جائیں گی۔ لیکن اگر سکھ عورتوں سے مسلمان عورتیں تعلقات بڑھائیں۔ تو چند سالوں میں ان کی حالت بدل سکتی ہے۔ اور