خطبات محمود (جلد 10) — Page 302
302 چیزوں سے بہتر ہے۔ سوائے اس دعا کے جو اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضاء کے لئے ہو۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگا کریں۔ دعا تو وہ چیز ہے کہ جس میں اللہ تعالی نے مومن اور کافر میں بھی تمیز نہیں رکھی۔ جس طرح اس کا رزق سب کے لئے ہے اسی طرح اس کے حضور دعا بھی سب کے لئے ہے۔ ہاں مومن کی دعا وہ زیادہ سنتا ہے۔ جس طرح مومن اگر چاہے اور کوشش کرے تو دنیاوی عزت بھی مومن کو ہی زیادہ ملتی ہے جیسے صحابہ کو اللہ تعالی نے دنیوی عزت بھی عطا کی۔ نماز جمعہ کے بعد تین شخصوں کا جنازہ پڑھوں گا۔ ایک تو غیاث الدین احمد صاحب بنگال کے ہیں۔ جو سلسلہ میں بہت مخلص نوجوان تھے۔ ایف اے تک تعلیم رکھتے تھے۔ یہاں بھی انہوں نے دو سال دینی تعلیم حاصل کی۔ تبلیغ کے لئے بہت جوش رکھتے تھے۔ تھوڑا سا وقت حصول معاش میں دیکر باقی سب وقت تبلیغ میں خرچ کرتے تھے۔ دوسرے چوہدری نعمت خاں صاحب کی اہلیہ ہیں۔ جہاں وہ فوت ہوئیں۔ وہاں جماعت نہیں ہے۔ تیسرے صاحب سید حاکم شاہ صاحب ہیں۔ جو بہت پرانے اور مخلص احمدی تھے۔ الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۲۶ء)