خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 243

243 کہ سارے قانون قدرت نے ان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ۔ اور دوسرے وقت ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے پرائے سب دشمن ہو گئے۔ لیکن باوجود اس کے ان کے ایمان میں فرق نہیں آتا بلکہ خطرے کے مقام پر ان کا ایمان آگے سے بھی بڑھ جاتا ہے اور یہ بات ان کو ممتاز کر کے دکھاتی ہے۔ غزوہ حنین میں ایک موقع پر تمام صحابہ باستثناء بارہ آدمیوں کے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ لشکر بارہ ہزار کا تھا۔ ان میں سے صرف بارہ آدمی بھاگ جانے کے خیال سے بچے تھے۔ اور باقی سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ میں اس جگہ کسی تاریخی پہلو پر روشنی نہیں ڈال رہا۔ اس لئے میں اس کی تفصیل اور وجوہات کو چھوڑتا ہوں۔ مگر بہر حال یہ بات ظاہر ہے کہ ایک موقع پر ایسا وقت آیا کہ رسول اللہ ا صرف بارہ آدمیوں کے درمیان رہ گئے لیکن باوجود اس بات کے آنحضرت ا آگے بڑھے۔ مگر اس وقت بعض آپ کے شیدائیوں نے بڑھ کر گھوڑے کی باگ پکڑ لی کہ اس وقت آگے بڑھنا مناسب نہیں۔ آپ ٹھیریں کہ لشکر جمع ہوئے۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ رسول اللہ اس کی زندگی میں ہماری زندگی ہے اور آپ کے جسم مبارک پر ذرا بھی آنچ آئی تو مسلمان دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا نخواسته رسول کریم جنگ میں شہید ہو گئے تو اشاعت اسلام کے راستہ میں پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے۔ گو وہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو قتل ہونے سے بچائے گا لیکن وہ خدا کے استغناء پر بھی یقین رکھتے تھے۔ اس لئے رسول اللہ اس کی جان کی حفاظت کے خیال کو ضروری سمجھتے تھے اور یہ ایسا خیال تھا جو کبھی مبدل نہ ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ پھر بھی غنی ہے اس لئے تدابیر اختیار کرنی چاہئیں غرض بعض صحابہ نے باگ پکڑ لی۔ مگر آپ نے زور سے فرمایا کہ چھوڑ دو اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر آگے بڑھ گئے۔ اور بلند آواز سے کہا۔ انا النبی لا كذ بـ انا بن عبدا لمطلب اگر نہ بولتے تو شائد نہ پہچانے جاتے۔ عرب میں اس زمانہ میں کلغی یا تاج نہیں ہوتے تھے کہ ان سے کسی بادشاہ کو پہچان لیا جاتا اور ایسے موقعہ پر جب کہ سارا لشکر چھوڑ کر بھاگ گیا ہو۔ اور جان کا سخت خطرہ ہو۔ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ مگر آپ بڑھے اور بلند آواز سے کفار اور اپنے دشمنان بر سر پیکار سے کہا انا النبی لا كذب انا بن عبدا لمطلب جس کا مطلب یہی تھا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ جھوٹا نہیں ہوں۔ اور دوسرے جملے سے یہ مراد تھی کہ کوئی میری طاقت کو دیکھ کر کہ سامنے تو چار ہزار تیر انداز کھڑے ہیں اور میں ان کی طرف ہی بڑھا جاتا ہوں یہ گمان نہ کر لے کہ میں خدا ہوں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اس دوسرے فقرے سے آپ