خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 177

177 مخمرم بعد از خدا بعشق محمد گر کفر این بود بخدا سخت کافرم کہ خدا تعالی کی محبت کے بعد محمد ﷺ کے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سب سے بڑا کافر ہوں۔ اسی طرح میں کہتا ہوں۔ اگر وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کی خاطر مال جمع کرنے سے مجھ پر لالچ کا الزام آتا ہے۔ تو بخدا میں اس سے بھی بڑا لالچی ہوں جس قدر کوئی مجھے کہہ سکتا ہے۔ اگر وصیت کے الفاظ مجھے اجازت دیتے تو میں کہتا ۱۱۳ سے کم کی وصیت نہیں ہو سکتی۔ لیکن افسوس کہ الفاظ اس لالچ کی اجازت نہیں دیتے پس مجھے تو خدا کے دین کے لئے روپیہ جمع کرنے کی اس سے زیادہ حرص اور لالچ ہے جس قدر کوئی کہہ سکتا ہے۔ اگر مجھے حضرت مسیح موعود کے منشاء کے خلاف کا خیال نہ ہوتا اور پھر مختلف طبائع کا خیال نہ ہوتا تو میں اس وقت کی ضروریات کے مطابق میں فیصلہ کرتا کہ ۱۱۳ حصہ کی وصیت کی جائے۔ اب میں ایسا تو نہیں کر سکتا۔ لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ یہ بھی جائز ہے۔ جب احمدیت ترقی کرے گی۔ ہماری جماعت کے لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہوں گی۔ ہمارے ہاتھ میں حکومت آجائے گی۔ احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے۔ تو اس وقت ۱/۱۰ حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی۔ اس وقت سلسلہ کی باگ جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ اگر وصیت کے لئے ۱۷۳ حصہ ضروری قرار دیدے تو یہ جائز ہوگا۔ مگر ابھی وہی زمانہ ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت تھا۔ اس لئے ابھی یہ حکم نہیں دیا جا سکتا گو دل یہی چاہتا ہے کہ زیادہ روپیہ آئے اور ۱/۳ حصہ کی وصیت کی جائے۔ مگر ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہو گی۔ مال و اموال کی کثرت ہو گی۔ اور ۱/۱۰ حصہ داخل کرنا کوئی بات ہی نہ گی۔ مگر اب تھوڑی جماعت ہے۔ جس نے بہت بوجھ اٹھانا ہے۔ احمدیت کی وجہ سے ہمارے آدمیوں کی ملازمتیں رکی ہوتی ہیں۔ ترقیاں رکی ہوتی ہیں۔ تجارتیں رکی ہوئی ہیں۔ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ۲۰ یا ۶۵ فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہی بڑا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہو گی اس وقت اس قسم کی تکلیفیں نہ ہوں گی۔ ایسے زمانہ میں اگر وصیت کے چندہ کو انتہائی حد تک بڑھا دیا جائے تو یہ بھی جائز ہو گا۔ کیونکہ اصل غرض اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی مالی قربانی کا موقعہ دینا ہے۔ اور مال زیادہ ہو تو زیادہ دینے سے ہی قربانی ہو سکتی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے کہ جو شخص وصیت کئے بغیر مرے وہ دوزخی ہے۔ تو میں کہتا ہوں وصیت کو وسیع کرو لیکن جب کہ آپ نے یہ نہیں لکھا۔ اور وصیت