خطبات محمود (جلد 10) — Page 111
111 ہے اسے بھی سمجھ لینا چاہئے اس نے بھی تم پر کونسا احسان کیا ہے۔ اے رسول! کیا ان کی اطاعت اور فرمانبرداری سے تو جنت میں جائے گا۔ ان کی نمازوں۔ روزہ - حج۔ زکوٰۃ کا احسان اگر کسی پر ہے تو ان کے اپنے اوپر ہی ہے۔ کہ وہ ان تکالیف اور مصائب سے بچ جائیں گے جو خدا پر ایمان نہ لانے والوں کو پیش آئیں گے اور اس ظلمت میں فائدہ اٹھائیں گے جس کے متعلق آتا ہے کہ جو ایمان نہ لائے گا وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا۔ اور جیسے ایک اندھے کو جنگل بیابان میں چھوڑ دیا جائے کہیں حالت ایمان نہ لانے والے انسانوں کی ہو گی۔ وہ تاریکی اور ظلمت میں پڑے ہوں گے۔ پس اگر لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔ تو ان سے تاریکی اور ظلمت دور کی جائے گی۔ انہیں دوسری زندگی میں بھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے ملایا جائے گا۔ پس یہ ان پر احسان ہوا۔ تم پر ان کا کیا احسان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کر کے بھی کسی کا حق نہیں کہ احسان جتلائے رسول کریم ان کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان سے کہو میرے ساتھ تمہیں کوئی واسطہ نہیں۔ اور نہ مجھ پر تمہارا کوئی احسان ہے۔ میں تمہیں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ضرورت بتائے دیتا ہوں۔ آگے تمہارا تعلق اور واسطہ خدا سے ہے۔ اور اس پر تم احسان نہیں جتلا سکتے ۔ کیونکہ یہ اس کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں نجات کا ذریعہ بتایا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا نادان ہو سکتا ہے۔ جسے ڈاکٹر کسی بیماری میں بتائے یہ نسخہ استعمال کرو۔ اور وہ کے ڈاکٹر صاحب یاد رکھنا میں نے آپ کی خاطر اس نسخہ پر ایک روپیہ صرف کیا ہے۔ اب نماز، روزہ، حج، زکوۃ کیا ہیں، نسخہ ہیں روحانی نجات کا۔ ان کے ذریعہ روح بیماریوں سے بچتی ہے۔ پس یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک شخص جسمانی ڈاکٹر کے پاس جاتا۔ اور اپنے دانت نکلواکر فیس دیتا ہے۔ ہاتھ یا لات کٹوا کر فیس ادا کرتا ہے۔ ناک جو عزت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ کٹواتا اور فیس پیش کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے روحانی بیماریوں سے بچنے کے لئے جو حکم دیتے ہیں ان کو مان کر اللہ اور اس کے رسول پر احسان جتلاتا ہے۔۔ فرمایا ایسے لوگوں سے کہلو۔ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی ہدایت دی اور وہ ذرائع بتائے کہ اگر تم ان پر عمل کرو تو تمہاری روح کو عذاب سے بچا سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو واقع میں ایمان لاتے ہیں۔ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا تو ان پر اصل احسان ہے۔ اور پھر رسول اور ان کے قائم مقاموں کا ان پر طفیلی احسان ہے۔ ایسے لوگوں کو دین کے لئے خواہ کس قدر قربانیاں کرنی پڑیں۔ وہ اسے خدا کا فضل اور احسان ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کا دعوئی