خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 44

خطبه الهاميه ママ اردو ترجمہ مِنْ أُمَمِ الْأَنْبِيَاءِ ۔ وَ بَلَغَتْ کیا کرتے تھے اور قربانیوں کی کثرت اس حد تک پہنچ كَثْرَةُ الذَّبَائِحِ إِلى حَدٍ غُطِيَ گئی ہے کہ ان کے خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا بِهِ وَجْهُ الْأَرْضِ مِنَ الدِّمَاءِ ۔ ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان کے خون جمع کئے جائیں اور حَتَّى لَوْجُمِعَتْ دِمَاءُ هَا وَارِيدَ اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے إِجْرَاءُ هَا لَجَرَتْ مِنْهَا الْأَنْهَارُ نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ نکلیں اور زمین کے وَسَالَتِ الْبِحَارُ وَفَاضَتِ تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے۔ الْغُدْرُ وَالْأَوْدِيَةُ الْكِبَارُ ۔ وَ اور یہ کام ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا قَدْ عُدَّ هَذَا الْعَمْلُ فِي مِلَّتِنَا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں مِمَّا يُقَرِّبُ إِلَى اللهِ سُبْحَانَهُ اور اُس سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر وَحُسِبَ كَمَطِيْئَةٍ تُحَاكِی میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت الْبَرْقَ فِي السَّيْرِ وَ لُمْعَانَهُ حاصل ہو اور اسی وجہ سے ان ذبح ہونیوالے جانوروں فَلَاجْلِ ذَالِكَ سُمِّيَ الضَّحَايَا کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قُرْبَانًا ۔ بِمَا وَرَدَ إِنَّهَا تَزِيْدُ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات کا موجب قرْبًا وَلُقْيَانًا۔ كُلَّ مَنْ قَرَّبَ ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اخلاصًا وَتَعَبُّدًا وَإِيْمَانًا ۔ اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت وَ إِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ نُسُکِ کی بزرگتر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی الشَّرِيعَةِ ۔ وَلِذَالِكَ سُمِّيَتْ کا نام عربی میں نسيكة ہے اور نُسُک کا لفظ بِالنَّسِيكَةِ وَالنُّسُكُ الطَّاعَةُ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں وَالْعِبَادَةُ فِي النِّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ ۔ آتا ہے۔ اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نسک ان جانوروں وَكَذَالِكَ جَاءَ لَفْظُ النُّسُكِ کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے بِمَعْنَى ذَبْحِ الذَّبِيْحَةِ ۔ فَهَذَا جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو الْإِشْتَرَاكُ يَدُلُّ قَطْعًا نُسُک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس