خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 225

خطبة الهامية ۲۲۵ اردو ترجمہ وصفدوا في ألفاظ القرآن وما کے اسرار پر اطلاع نہ پائی ۔ وہ قرآن کے أعطوا أغلاق خزائنه ۔ فكيف الفاظ میں جکڑے گئے ہیں اور قرآن کے بند كان من الممكن أن يرجعوا خزانوں کی کنجیاں نہیں دیئے گئے۔ تو پھر کس طرح سالمين من هذا الطريق؟ فلأجل ممکن ہے کہ وہ اس راستہ سے صحیح سلامت واپس ذالك زاغوا من محجّة آسکیں ۔ اس لئے وہ ٹیڑھے ہو کر راہ تحقیق التحقيق، وما ذاقوا جرعة من سے ہٹ گئے ہیں اور اس اعلیٰ شراب سے ایک هذا الرحيق، وما كانوا گھونٹ بھی نہیں چکھا اور نہ وہ بصیرت رکھنے مستبصرين ۔ ثم لما جعلني الله والے ہیں ۔ پھر جب اللہ نے مجھے مسیح موعود مسیحا موعودًا وبعثني صدقا بنایا اور عین ضرورت کے وقت مجھے سچائی اور وحقا عند وقت الضرورة، طفقوا حق کے ساتھ بھیجا تو وہ میری تکذیب کرنے ، یکذبوننی و یکفروننی مجھے کافر ٹھہرانے اور فتیح ترین صورت میں میرا ويذكرونني بأقبح الصورة، وما ذکر کرنے لگ گئے اور وہ اس سے باز آنے كانوا منتهين ۔ وقد وافت شمس والے نہیں ۔ آفتاب زمانہ اپنے غروب کو پہنچ الزمان غروبها، وحيّة الحیات چکا اور زندگی کا سانپ اپنے راستوں کا قصد کر قصدت دروبها، وما بقى من چکا اور دنیا کا صرف تھوڑا سا وقت ہی باقی رہ الدنيا إلا قليل من حين أيريدون گیا ہے ۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ شیطان کی مقررہ أن يطول أجل الشيطان؟ وإن ميعاد اور طویل کر دی جائے ۔ یقیناً ہمارا یہ زماننا هذا هو آخر الزمان، وقد زمانہ ہی آخری زمانہ ہے اور اُس نے اِس أهلك كثيرا من الناس إلى هذا وقت تک بکثرت لوگ ہلاک کر دیئے ہیں ۔ الأوان ۔ وإن آدم هوى من قبل قبل ازیں آدم میدان کارزار میں گر گیا تھا في مصاف، وهزمه الشيطان فما اور شیطان نے اسے ہزیمت دے دی تھی اور رأى الغلبة إلى ستة آلاف، چھ ہزار (سال) تک اس نے غلبہ نہ دیکھا۔