خطبة اِلہامِیّة — Page 214
خطبة الهامية ۲۱۴ اردو ترجمہ وكذالك الانتقام فى كل مقام نزدیک ہر موقع پر انتقام لینا بھی مستحسن ليس بخير عند المتدبرين فلا نہیں ۔ پس بلا شبہ جس نے بھی انجیل کی شك أنه من أوجب العفو على متابعت کرتے ہوئے ہر موقع پر نفسه في كل مقام بمتابعة معاف کر نا ہی اپنے پر لازم کر لیا ہو الإنجيل فقد وضع الإحسان في تو بعض حالات میں اس نے بے غیر محله في بعض الحالات، موقع احسان کیا اور جو تو رات کی ومن أوجب الانتقام على نفسه اتباع میں ہر جگہ انتقام لینا ہی اپنے في كل مقام بمتابعة التوراة فقد پر واجب کر لے تو اس نے بے محل وضع القصاص في غير محله قصاص لیا اور نیکیوں کے مدارج وانحط من مدارج الحسنات ۔ سے نیچے گر گیا ۔ جب کہ قرآن نے وأما القرآن فقد رغب في مثل اس قسم کے مواقع پر اس فطری هذه المواضع إلى شهادة شریعت کی شہادت کی طرف ترغیب الشريعة الفطرية التي تنبع دلائی ہے جو قوت قدسیہ کے چشمہ من عين القوة القدسية، وتنزل سے پھوٹتی ہے اور روح الامین کی من روح الأمين في جَذْرِ طرف سے صاف دلوں کی گہرائی القلوب الصافية، وقال: میں اترتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے ۔ جَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةً مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا جَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ، وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ لا پس تو فانظر إلى هذه الدقيقة اس روحانی دقیق نکته پر نگاہ کر کہ الروحانية، فإنه أمر بالعفو عن اس نے کسی جرم پر عفو کا حکم اس شرط ے بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مد نظر رکھے تو اس کو بدلہ دینا اللہ کے ذمے ہوتا ہے۔ (الشوری: ۴۱)