خطبة اِلہامِیّة — Page 210
خطبة الهامية ۲۱۰ اردو ترجمہ والهوى، ويدعو إلى محويّة في پر وارد ہوتی ہے اور فطرتی شریعت میں محو ہو جانے الشريعة الفطرية وحالة كحالة من کی طرف اور اس شخص کی حالت جیسی حالت کی مات وفني، ويجر إلى تعطل تام طرف بلاتی ہے جو مر گیا اور فنا ہو گیا ہو۔ اور خود من حركات الاختيار، وموافقة اختيارى كى حرکات سے کلیہ معطلی اور ان فتاوی بالفتاوى التي تحصل للقلب في سے موافقت کی طرف کھنچتی ہے جو قضاء وقدر كل حين من الله مُنزّل نازل کرنے والے اللہ کی طرف سے دل کو ہر آن الأقدار ۔ وفي هذه الحالة يكون حاصل ہوتے ہیں ۔ اس حالت میں انسان الإنسان مستهلكة الذات غير فانی الذات ہو کر نفس اور جذبات کے حکم کے تابع تابع لأمر النفس والجذبات، حتى نہیں رہتا یہاں تک کہ اس کی طرف نہ کوئی سکون لا يُنسب إليه سكون ولا حركة منسوب ہو سکتا نہ کوئی حرکت اور نہ چھوڑنا اور نہ ولا ترک ولا بطش ويتعالى شأنه پکڑنا ۔ اس کی شان تغیرات سے بالا ہو جاتی ہے عن التغيرات، ولا يوجد فيه من اور اس میں اپنے قصد وارادہ کا کوئی نشان تک القصد والإرادة أثر، و لا من نہیں رہتا اور نہ کسی مدح و مذمت کی خبر ہوتی ہے المدح والمذمة خبر، ويصير اور وہ مردوں کی طرح ہو جاتا ہے ۔ پس یہ موت كالأموات۔ فهذا نوع من الموت کی ایک قسم ہے۔ اس موت کا مقام پانے والا نہ فإنه لا يملك أهل هذا الموت کسی حرکت و سکون کا اختیار رکھتا ہے اور نہ کسی دکھ حركة ولا سكونًا، ولا ألَمًا ولا اور لذت کا ۔ نہ کسی راحت اور تھکاوٹ کا اور نہ کسی لذة ، لا راحةً ولا تعبا، ولا محبة محبت وعداوت کا ۔ نہ عفو کا نہ انتقام کا اور نہ کسی بخل ولا عداوة، ولا عفوا ولا انتقاما کا اور نہ سخاوت کا ۔ نہ کسی بزدلی اور نہ بہادری کا ولا بخلا ولا سخاوة، ولا جُبنا ولا اور نہ غضب کا اور نہ شفقت کا ۔ بلکہ وہ حتی و شجاعة، ولا غضبًا ولا تحننا ، بل قیوم کے ہاتھ میں ایک مردہ ہوتا ہے جس میں نہ هو ميت في أيدى الحی القیوم کوئی حرکت باقی رہ گئی ہوتی ہے اور نہ کوئی خواہش =