خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 681 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 681

خطابات شوری جلد سوم ۶۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء تیسرا دن ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو صبح یوم جمہوریہ پاکستان کے موقع پر قرارداد مبارکباد تھا اس مجلس مشاورت کی اجلاس حضور کی صدارت میں شروع ہوا تو حضور کی اجازت سے یوم جمہوریہ پاکستان کے سلسلہ میں مبارکباد کی ایک قرارداد پاس ہوئی جو کہ صدر اور وزیر اعظم پاکستان اور دونوں صوبائی گورنرز کو بھجوائی گئی ۔ اس موقع پر حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :- آج پاکستان کی آزادی کا دن ہے اور جیسا کہ میں کل بتا چکا ہوں اس کو ہمیں دُنیوی بات نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ چونکہ پاکستان کی ترقی اور طاقت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے ہمیں اس کو دین کا ہی ایک حصہ سمجھنا چاہئے ۔ مثلاً پچھلے دنوں سپین کی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نوٹس دیا کہ وہ وہاں سے چلا جائے کیونکہ سپین میں اسلام کی تبلیغ منع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرات اُن کو اس لئے ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کمزور ہے اور وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے کئی دفعہ یہ واقعہ سنایا ہے کہ جب صلیبی جنگوں کے زمانہ میں عیسائیوں نے مکہ کے قریب مسلمانوں کو شکست دے کر اپنی فوجیں فلسطین میں داخل کر دیں اور فلسطین کا وہ حصہ جو مکہ اور حیفا کے پاس ہے اُس کو فتح کر لیا اور تھوڑا سا حصہ مسلمانوں کے پاس رہ گیا تو اُس وقت ایک قافلہ بغداد سے شام اور فلسطین میں تجارت کے لئے آیا ہوا تھا۔ جب وہ قافلہ شام کی حدود میں سے گزر رہا تھا تو اُنہوں نے ایک عورت کی آواز سنی جو چلا چلا کر کہہ رہی تھی یا للامیر المومنین ! جس کے معنی یہ ہیں کہ اے امیر المومنین ! میری فریاد کو پہنچیو ۔ وہ کوئی عورت تھی جس کو عیسائی پکڑ کر لے جا رہے تھے۔ پاس ہی مسلمانوں کی بستیاں تھیں ۔ عیسائی بعض اوقات ان بستیوں پر ڈاکہ مارتے تھے اور مسلمانوں کو پکڑ لیتے تھے۔ چنانچہ عیسائی لوگ اُس عورت کو پکڑ کر لے جا رہے تھے۔ اُس بیچاری کو پتہ نہیں تھا کہ آجکل امیر المومنین کی کوئی طاقت نہیں ہے، بغداد کے قلعہ سے باہر اُسے کوئی پوچھتا بھی نہیں ۔ مگر اس کی پرانی شہرت ابھی باقی تھی اُس کی وجہ سے اُس نے یہ آواز دی کہ اے امیر المومنین !