خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 679

خطابات شوری جلد سوم لے جائیں گے ۔“ 66 ۶۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء وصیت کی آمد کا ۱۰۰ را حصہ مقبرہ بہشتی کی سجاوٹ پر خرچ کیا جائے سب کمیٹی بہشتی مقبره کی طرف سے مجلس مشاورت میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ چندہ شرط اول کا معیار مقرر ہونا چاہئے تا کہ قبرستان کو خوشنما بنانے کے لئے معقول رقم وصول ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- ترامیم کے متعلق قاعدہ ہے کہ وہ لکھ کر پیش کرنی چاہئیں ۔ تقاریر میں ان کا ذکر کرنا اصول کے خلاف ہے۔ میں نے وصیت کی آمد کا اندازہ لگوایا ہے، دفتر والوں نے بتایا ہے کہ پانچ لاکھ روپیہ سالانہ وصیت کی آمد ہے۔ میرے نزدیک اگر وصیت کرنے والوں پر زور دینے کی بجائے وصیت کی آمد سے ہی ۱۰۰ / ا لے لیا جائے تو یہ پانچ ہزار روپیہ سالانہ بن جاتا ہے جس سے ساری تجویزیں پوری کی جاسکتی ہیں۔ کچھ نئے وصیت کرنے والوں سے مل جائے گا۔ پس آئندہ کے لئے یہ قانون بنا دیا جائے کہ وصیت کی آمد کا ۱/۱۰۰ بنا بہشتی مقبرہ کی سجاوٹ اور اُس کو باغ کی شکل دینے کے لئے مخصوص کیا جائے۔ اس طرح اگر وہ امانت سے پندرہ ہیں ہزار روپیہ لے کر اپنی سکیموں پر خرچ بھی کر لیں تو پانچ ہزار سالانہ اس طرح آجائے گا اور کچھ نئے وصیت کرنے والوں سے آ جائے گا اور وہ تین چار سال میں اپنا سارا قرض اُتار سکیں گے بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر آمد کم ہو گئی تو ہماری انجمن کو توجہ ہوگی کہ وہ وصیتیں بڑھائے ۔ مثلاً اگر دس لاکھ وصیت ہو جائے اور وہ ایک ایک روپیہ بھی چندہ چندہ شرط اول دیں تو دس لاکھ روپیہ آجاتا ہے۔ اب سالانہ ۲۸۸ وصیتیں ہو رہی ہیں جو بہت کم ہیں۔ اگر پانچ ہزار بھی ہر سال وصیت ہو تو پانچ ہزار روپیہ آجاتا ہے اور پانچ ہزار انجمن دے گی ، دس ہزار روپیہ ہو جائے گا۔ اس طرح دو تین سال کے اندر اندر ٹیوب ویل بھی لگ جاتا ہے باغ بھی لگ جاتا ہے اور دوسرے اخراجات بھی پورے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت تک کام چلانے کے لئے امانت سے قرض لے لیا جائے اور پھر آمد سے ادا کر دیا جائے۔ پس میرے نزدیک بجائے سب کمیٹی کی تجویز منظور کرنے کے انجمن کو کہا جائے کہ وہ وصیت کی