خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 650
خطابات شوری جلد سوم ۶۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء لکھتے ہیں :- الف تاریخ میں مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ کو اس بناء پر کافی تشویش رہتی تھی کہ امت مسلمہ کے باقی ماندہ اعیان ملت میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کو جانشینی کے لئے تجویز کیا جا سکے میں حضرت عمرؓ نے انتخاب ( اور یہ حقیقی معنوں میں انتخاب تھا) کا معاملہ چھ اشخاص کی ایک مجلس کے سپرد کر دیا۔ فیصلہ کثرت رائے سے ہونا تھا اور آراء کی مساوات کی حالت میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو حکم بنایا جانا تھا بشرطیکہ مجلس کے اراکین اس پر متفق ہوں ۔ بصورت دیگر حضرت عبدالرحمن بن عوف کو اختیار دیا گیا کہ اپنی فیصلہ کن رائے (casting vote) سے کسی اور امیدوار کے حق میں فیصلہ کر دیں ۔ اس میں ایک خاص نکتہ یہ ہے کہ اعیان ملت کا فیصلہ ہمیشہ قطعی سمجھا جائے گا اور عامۃ المسلمین اس فیصلہ کی تصدیق حلف وفاداری سے کریں گے الماوردی کا بیان اس بارے میں نہایت واضح ہے کہ اعیانِ ملت کا انتخاب عامۃ الناس کے لئے قبول کرنا لازمی ہے ۔“ (رسالہ اسلام میں خلیفہ کا انتخاب صفحہ ۲۳،صفحہ ۲۴) مکرم مولوی صاحب نے اس تقریر کے بعد فرمایا۔ اب میں وہ قرار داد پڑھتا ہوں جو شریعت اسلامیہ اور پرانے علماء کی تحقیقات کی روشنی میں مجلس علماء سلسلہ احمدیہ نے مرتب کی ہے۔ قرارداد کا متن یہ ہے:۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری ریزولیوشن تمہید سید نا حضرت ۔۔۔۔۔ خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے موقع پر آئندہ خلافت کے انتخاب کے متعلق یہ بیان فرمایا تھا کہ پہلے یہ قانون تھا کہ مجلس شورٹی کے ممبران جمع ہو کر خلافت کا انتخاب کریں لیکن آجکل کے فتنہ کے حالات نے ادھر توجہ دلائی ہے کہ تمام ممبرانِ شوری کا جمع ہونا بڑا لمبا کام ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھا کر منافق کوئی فتنہ کھڑا کر دیں اس لئے اب میں یہ تجویز کرتا ہوں جو اسلامی شریعت