خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 641

خطابات شوری جلد سوم ۶۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء منعقده ۲۱ تا ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء) پہلا دن جماعت احمدیہ کی اڑتیسویں مجلس مشاورت ۲۱ تا ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو تعلیم الاسلام دعا کا لج ربوہ کے ہال میں منعقد ہوئی ۔ کارروائی کا آغاز تلاوت اوت قرآن کریم - ہوا۔ اس کے بعد حضور نے دُعا سے متعلق فرمایا :- سے اب میں دُعا کر دیتا ہوں دوست بھی میرے ساتھ شامل ہوں ۔ دعاؤں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنے ملک اور سلسلہ دونوں کے لئے دعائیں کریں۔ بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ملک کی ترقی یا اس کی کامیابی ایک دُنیوی معاملہ ہے لیکن یا د رکھنا چاہئے کہ اگر ہمارے ملک کی ترقی نہیں ہوگی تو ہماری جماعت کی آمد بھی نہیں بڑھے گی۔ ہماری جماعت کا بڑا حصہ پاکستان میں رہتا ہے۔ اگر پاکستان کی مالی حالت ترقی کرے تو جماعت کی مالی حالت بھی ترقی کرے گی اور چندے بھی بڑھیں گے اور جوں جوں چندے بڑھیں گے بجٹ بھی بڑھے گا ، اسی طرح آپ کی مسجدیں بھی انشاء اللہ بڑھتی چلی جائیں گی ۔ اسی طرح اگر ملک کی تجارتی ترقی ہو تو فارن ایکسچینج آزاد ہو جاتا ہے ۔ آجکل مسجدیں بنانے میں روپیہ کی اتنی دقت نہیں جتنی فارن ایکسچینج کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعتیں یورپ میں بھی ہیں، افریقہ میں بھی ہیں، امریکہ میں بھی ہیں اس کی وجہ سے گورنمنٹ کی مہربانی کے علاوہ ان جماعتوں کی مدد سے بھی ہمارے کچھ کام ہو جاتے ہیں مگر اس میں ابھی زیادہ آزادی نہیں۔ ہماری باہر کی جماعتیں ابھی تھوڑی ہیں، زیادہ جماعتیں