خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 630
مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء ۶۳۰ خطابات شوری جلد سوم سفارش کرائی تھی۔ میں نے انہیں کہا کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر ان سے تین پودے لے لو۔ ایک اپنے ہاں بوؤ ، ایک مجھے دے دو اور ایک میاں بشیر احمد صاحب کو دے دو۔ چنانچہ اُنہوں نے ایک پیوند حاصل کر کے مجھے بھجوایا میں نے وہ اپنے مالی کو دے دیا اور اس نے اُسے دوسرے درختوں میں لگایا لیکن اُس نے پتہ نہ دیا اور ہمارا تجربہ کامیاب نہ ہوا۔ پھر میں نے انہیں ہدایت دی کہ آم خرید کر لگا ئیں چنانچہ بارہ آم خرید کئے گئے لیکن قاعدہ یہ ہے کہ پیوند لگانے سے بہترین آم پیدا ہوتا ہے، ہے، گٹھلی ہونے سے اج اچھا آم پیدا نہیں ہوتا الیکن ایک دفعہ ایک کتاب مرے مطالعہ میں آئی وہ امداد امام صاحب جو بہار کے رئیس تھے اور علی امام صاحب کے والد تھے، اُنہوں نے لکھی تھی۔ انہیں باغات لگانے کا بڑا شوق تھا۔ اُنہوں نے اپنے تجربات کی بناء پر اس کتاب میں لکھا تھا کہ اگر کسی گٹھلی کو بویا جائے اور وہ اُگ آئے تو چھ ماہ کے بعد پودے کو دوسری جگہ لگائیں اور پھر ہر تین ماہ کے بعد اُس کی جگہ بدلتے جائیں ۔ تو وہ درخت اصل آم کی طرح پھل دینے لگ جائے گا ۔ پھر میں نے پڑھا تھا کہ شہد میں ڈبو کر گٹھلی کو لگایا جائے تو آم میٹھا ہوتا ہے۔ میں نے وہ گٹھلیاں لگوائیں اور ان کتابوں کے طابق تجربہ کیا تو بارہ گٹھلیوں میں سے سات گٹھلیاں اُگیں ۔ پھر ان میں سے د ۔ دو پودے مر گئے ، پانچ بچے، ان پودوں کو میں نرسری میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کراتا رہا۔ اب وہ درخت آم دینے لگ گئے ہیں اور وہ آم بالکل اصل آموں کی طرح ہیں۔ پھر اُن آموں کی بڑی ٹھہرت ہوئی ۔ میرا ایک کارکن مچل فارم کے پاس بعض پودے لینے گیا تو اُنہوں نے کہا کہ ناصر آباد کے نور الہدی آم بہت اچھے ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک درخت مجھے بھی دیں کہ میں اُسے اپنے باغ میں لگاؤں ۔ اب دیکھو پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سندھ میں ہندوستان اور ملتان کے آم پیدا نہیں ہوتے لیکن بعد میں ہم نے تجربہ کیا اور ملتان کا ” نور الہدی اور ہندوستان کی بعض اقسام پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ پس تجربہ سے بعض نئی نئی چیزیں بھی پیدا کی جاسکتی ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مرکز میں جو آدمی ہو اُسے ان کاموں کی دھت سی لگی رہے۔ قادیان میں میاں بشیر احمد نے باغ لگایا ہوا تھا ۔ اُنہیں آم لگانے کا بہت شوق تھا چنانچہ انہیں کئی دفعہ انعام ملا۔ XXXXXXXX XXX