خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 622

خطابات شوری جلد سوم ۶۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء دو میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ غلام محمد اختر صاحب نے اپنے آپ کو ناظر زراعت قرار دیا ہے لیکن میرے خیال میں اس محکمہ کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جسے زراعت سے واقفیت ہو ۔ اختر صاحب محکمہ ریل کے ناظر تو ہو سکتے ہیں لیکن زراعت کے نہیں کیونکہ نہ اُنہوں نے خود کبھی زراعت کا کام کیا ہے اور نہ زراعت کا کام کروایا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں نے بھی کبھی ہل نہیں چلایا لیکن بچپن سے ہی مجھے زراعت کے کام کا شغف رہا ہے۔ میں نے خود کئی باغ لگوائے ہیں اور بڑے کامیاب باغ لگوائے ہیں ۔ پھر گو میں نے زراعت کا باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا لیکن اگر میرے ماتحت کوئی زراعت کا ایکسپرٹ کام کرے تو میں اُس سے اس موضوع پر تبادلہ خیالات کر سکتا ہوں اور اگر میں اس سے کچھ سیکھوں گا تو اُسے کچھ سکھاؤں گا بھی ۔ اگر اختر صاحب اپنی تقریر میں یہ بتا دیتے کہ میرے ما تحت فلاں زراعت کا ایکسپرٹ کام کر رہا ہے اور وہ فارغ بھی ہے اور میں اس سے کچھ سیکھ رہا ہوں اور کچھ اُسے سکھا رہا ہوں تو اُن کا جواب درست ہو سکتا تھا، ورنہ موجودہ صورت میں اُن کا جواب تسلی بخش نہیں ۔ میں نے جب نظارت زراعت قائم کرنے کے لئے کہا تھا تو اُس وقت میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں اس کام ۔ اس کام پر کوئی ایکسپرٹ لگاؤں گا۔ میں نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ ضروری نہیں کہ زراعت کا کوئی بی ایس سی یا ایم ایس سی ہوا اور اُسے اِس کام پر لگایا جائے یا بلکہ میں نے کہا تھا کہ اِس کام سے شغف رکھنے والوں کو لگایا جائے اور اس کے ساتھ ہی میں نے یہ تحریک کی تھی کہ جامعہ المبشرین کے دولڑکوں کو اس کام پر لگاؤ۔ یہ دونوں لڑ کے اُس زمین پر کام کریں جو ربوہ کے قریب ہمیں الاٹ ہوئی ہے۔ چنانچہ دولڑکوں کو اس کام پر لگا دیا گیا اور اگر وہ استقلال سے کام کرتے رہے تو تھوڑے عرصہ میں ہی وہ اس کے ماہر بن جائیں گے۔ مجھے رپورٹ ملی ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں وہ دونوں ہل چلانے لگ گئے ہیں ۔ اگر وہ اسی طرح محنت کرتے رہے تو ایک سال میں ہی وہ ایکسپرٹ ہو جائیں گے۔ اسی طرح اسی محکمہ میں سید عبدالرزاق شاہ صاحب ہیں اگر چہ وہ افریقہ میں ملازمت کرتے رہے ہیں لیکن جب وہ وقف کر کے آئے تو میں نے اُنہیں سندھ کی زمینوں پر لگایا اور وہاں اُنہوں نے زراعت کا کام سیکھا۔ اب بڑی حد تک اُنہوں نے زراعت کے کام میں XXXXXXX