خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 613
مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء ۶۱۳ خطابات شوری جلد سوم تیسرادن احمدی زمیندار محنت اور دعاؤں مجلس مشاورت کے تیسرے دن ۳۱ مارچ ۱۹۵۶ء صبح کے اجلاس میں زراعت کمیٹی کی رپورٹ : پیش سے کام لیکر پیداوار بڑھائیں ہوئی تو حضور نے فرمایا: مین کے اجلاس اس وقت زراعت کمیٹی کی رپورٹ پیش ہو رہی ہے اور زمیندارہ کام سخت مشکل ہے کیونکہ زمیندار دوسرے کی بات ماننے کا عادی نہیں ہوتا۔ میں نے ایک دفعہ قادیان میں ایک خطبہ پڑھا جس میں میں نے تاجروں کو کسی امر کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ تم لوگ بعض غلطیاں کرتے ہو اگر تم یہ نہ کرو تو تمہارے کاروبار میں ترقی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد مجھے ایک تاجر ملے تو میں نے ان سے کہا آپ سچ سچ بتائیں آپ کے چہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کی وجہ سے آپ نے یہ تاثر لیا ہے کہ تاجر تو میں ہوں اور یہ ہدایات مجھے خلیفہ اسیح دے رہے ہیں جو تاجر نہیں۔ اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ آپ کی بات ٹھیک ہے میں اس وقت یہی سوچ رہا تھا کہ تاجر تو میں ہوں اور نصیحت مجھے یہ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا دیکھنا یہ چاہئے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ معقول ہے یا نہیں ۔ زمینداروں کی بھی یہی حالت ہے ہمارا زمیندار ابھی تک لکیر کا فقیر چلا آتا ہے اور وہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود کبھی توجہ نہیں کرتا۔ گورنمنٹ سالہا سال سے بیچ اور کھاد کے متعلق شور مچا رہی ہے مگر یہ ہے کہ پرانے ڈگر پر چلتا چلا جاتا ہے کھارا بھی تک جلائی جاتی ہے اور بیج کا یہ حال ہے کہ ہم سالہا سال سے بیج مزارعوں کو خرید کر دیتے ہیں لیکن وہ گھروں میں کھا جاتے ہیں اور رڈی بیج بو دیتے ہیں۔ ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی سرد مقام کا آدمی تھا وہ دھوپ میں کھڑا تھا اُس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا اور اُس نے کہا میاں تم دھوپ میں کیوں کھڑے ہو، سایہ میں بیٹھ جاؤ۔ اُس نے ہاتھ پھیلا کر کہا میں سایہ میں بیٹھ جاؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے؟ یہی حال زمینداروں کا ہے۔ تم بے شک ان کے فائدہ کی بات کرو مگر وہ اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ دادے جس طرح شروع سے کرتے آئے ہیں اُسی طرح ہم بھی کریں گے اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اب XXXXXXXXX XXXXXXXXX XXXXXXXXXXXXXXX