خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 585
خطابات شوری جلد سوم ۵۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ نہ صرف ہمیں ایمان پر قائم رکھے بلکہ اُسے روز بروز زیادہ کرتا چلا جائے اور نہ صرف ہمیں گزشتہ پاک لوگوں کا وارث بنائے بلکہ قیامت تک اپنی برکات ہم پر نازل کرتا چلا جائے اور ہماری اولاد نہ صرف اُس جوش کی وارث ہو جو ہمارے دلوں میں خدمت دین کے لئے پایا جاتا ہے بلکہ اس کا جوش ہم سے بڑھ کر ہو اور وہ جوش قیامت تک قائم رہے تا اسلام کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں رہے اور وہ کبھی سرنگوں نہ ہو۔ وہ اپنی متواتر جدو جہد سے ساری دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لے آئیں اور اس دنیا میں ایک ہی خدا اور ایک ہی دین ہو۔ پھر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم دُعائیں کریں جہاں اللہ تعالیٰ ہمیں روپیہ دے وہاں ہمیں اس کے صحیح استعمال کی بھی توفیق عطا فرمائے کیونکہ روپیہ کا غلط استعمال کیا جائے تو وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ اُن کا ایک دوست بہت امیر تھا۔ جب وہ مرا تو اُس نے لاکھوں روپیہ اپنے پیچھے چھوڑا اور وہ روپیہ اُس کے لڑکے کو ملا ۔ خود تو اُس نے بڑی تنگی میں گزارا کیا تھا لیکن اپنے بیٹے کے لئے اُس نے کافی سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا۔ ایک دن کسی شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ آپ اپنے دوست کے بیٹے کو سمجھائیں وہ قیمتی تھان کپڑے کے خریدتا ہے اور انہیں سارا دن پھاڑتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے یہ بات سُن کر بڑا تعجب ہوا کیونکہ میرے نزدیک یہ پاگلا نہ حرکت تھی۔ تاہم میں نے اُسے اپنے پاس بلایا اور کہا میاں ! تمہارے متعلق یہ شکایت آئی ہے کہ تم اپنی دولت کو ضائع کر رہے ہو۔ تم قیمتی تھان کپڑے کے خریدتے ہو اور پھر انہیں بیٹھے پھاڑتے رہتے ہو، اس کا کیا فائدہ۔ وہ کہنے لگا مولوی صاحب ! نیا کپڑا پھاڑنے کے نتیجہ میں جو چڑ کی آواز آتی ہے وہ مجھے بڑی اچھی لگتی ہے اس لئے میں سارا دن یہی کام کرتا ۔ رہتا ہوں ۔ اب دیکھو اگر چہ اس کے پاس روپیہ بہت تھا لیکن اس نے اُسے نا واجب طور پر ضائع کر دیا۔ اسلامی بادشاہوں کے پاس بھی بہت روپیہ رہا لیکن اُنہوں نے بھی اسے اسی طرح ضائع کر دیا۔ اب بھی جب میں دمشق گیا تو میں نے سُنا کہ ایک اسلامی حکومت کا شہزادہ وہاں آیا اس نے مصر سے دوسو ناچنے والی عورتیں منگوائیں ۔ ان میں سے ہر عورت کی XX