خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 476

خطابات شوری جلد سوم ۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء مگر وہی چیز جس سے اس کی ترقی وابستہ ہے نہیں خریدے گا ۔ یعنی کتاب خریدنے کے لئے وہ کبھی تیار نہیں ہوگا۔ اس کا یہی جی چاہے گا کہ کوئی مجھے تحفہ کے طور پر دے دے حالانکہ یہ وہ چیز ہے جو اس کے کپڑے سے زیادہ، اس کے کھانے سے زیادہ، اس کے پینے سے زیادہ، بلکہ اس کے بیوی بچوی کی ضروریات سے بھی زیادہ اہمیت رکھنے والی ہے۔ ہر شخص کی لائبریری ہونی چاہئے میں پچیس سال کی عمر میں خلیفہ ہوا تھا۔ میرے بچے اب ستائیس ستائیس سال کے ہیں لیکن ہے ستائیس سال کی عمر میں ان کے پاس اتنی کتابیں نہیں جتنی کتابیں ہیں سال کی عمر میں میرے پاس موجود تھیں اس چھوٹی سی عمر میں پندرہ میں کتابیں کئی کئی جلدوں کی میرے پاس موجود موجود تھیں مگر اب میرے لڑکوں کو اس کا شوق نہیں ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پڑھانے والوں نے انہیں اس طرف کبھی توجہ نہیں دلائی۔ ایک لائبریری مرکزی ہوتی ہے مگر ایک لائبریری وہ ہے جو ہر شخص کے گھر میں ہونی چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچپیں تھیں کتا بیں ایسی ہیں جو ہر مولوی کے پاس ہونی چاہئیں ۔ بلکہ اب موجودہ علوم کے لحاظ سے ایک سو کتابیں ایسی ہیں کہ چاہے انسان فاقہ کرے، ننگا ر ہے وہ کتابیں اس کے پاس ضرور ہونی چاہئیں لیکن اگر سو نہیں تو کم از کم پچاس ساٹھ کتابیں تو ضرور ہونی چاہئیں مگر یہ تحریک تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب مرکز کو کتابوں کی خواہش ہو۔ جب مرکز کا یہ حال ہو کہ اسے لائبریری کے لئے اتنا بھی خرچ کرنے کی توفیق نہ ملے جتنا وہ ایک چپڑاسی کے لئے خرچ کرتا رہا ہے تو اور لوگوں کے دلوں میں کہاں شوق پیدا ہو سکتا ہے۔ پس میرے نزدیک اس مد کو الگ مستقل طور پر رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ لائبریری کو ہم صحیح معنوں میں قائم کر سکیں ۔ اس کے یہ ما ۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ اور لائبریریاں نہیں رہیں گی سکول کی لائبریری بھی رہے گی، کالج کی لائبریری بھی رہے گی، جامعہ کی لائبریری بھی رہے گی ، ریسرچ کی لائبریری بھی رہے گی مگر وہ مختصر لائبریریاں ہوں گی زیادہ اہم کتابیں مرکزی لائبریری میں جمع کی جائیں گی ۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاما یہ کہا گیا ہے کہ ہے کرشن روڈ ر کو پال تیری مہما گیتا میں بھی لکھی گئی ہے۔ دو اور اسے ہم فخر کے طور پر بیان کیا کرتے ہیں لیکن ہم اس طرف کبھی توجہ نہیں کرتے کہ