خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 451

خطابات شوری جلد سوم ۴۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اس کے بعد انشاء اللہ ربوہ آجائے گا۔ در حقیقت صحیح طریق وہی ہے جس کی کثرت رائے نے تائید کی ہے اور جس کے مطابق میں بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ صدرانجمن احمد یہ اگر چاہے تو اپنے تو موجودہ بجٹ میں کسی دوسری جگہ سے تخفیف کر کے یہ گنجائش نکال لے۔ اخراجات کا کچھ حصہ یقینا فرض ہے اُس کو نکال کر ضروری اخراجات کے لئے گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔“ " 66 اس موقع پر ایک دوست نے سوال کیا کہ کیا صد را انجمن احمد یہ اخراجات میں خود بخود تخفیف کر سکتی ہے یا اُسے حضور سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی؟ حضور نے فرمایا :- انجمن کو یہ اجازت نہیں کہ وہ خود بخود جن اخراجات کو چاہے کم کر دے اس کے لئے اُسے بہر حال مجھ سے منظوری لینی پڑے گی ۔ میں سمجھتا ہوں اگر سب کمیٹی کے سامنے تمام صیغہ جات کے افسروں کو اپنی اپنی ضروریات پیش کرنے کا موقع دیا جائے جس کی میں پہلے بھی اجازت دے چکا ہوں تو اس قسم کے سوالات پیدا ہی نہیں ہو سکتے ۔ منظوری بجٹ اب جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ سب کمیٹی بیت المال کے پیش کردہ بجٹ اخراجات بابت سال ۱۹۵۱ء ۔ ۱۹۵۰ء کو منظور کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ ۳۵۹ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :- چونکہ کثرت رائے اس بات کے حق میں ہے اس لئے میں سب کمیٹی بیت المال کا پیش کردہ بجٹ اخراجات برائے سال ۱۹۵۱ء ۔ ۱۹۵۰ء منظور کرتا ہوں جس کی مجموعی میزان ۷۶۵۴۳۱ اروپیہ ہے ۔“ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) اختتامی مجلس مشاورت کے تیسرے دن بھی اخراجات کی منظوری کے بعد اور خطاب شورای کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے نمائندگان شورای سے خطاب خطاب کرتے ہوئے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی ۔ جس میں حضور نے جماعت کو حلقہ تبلیغ وسیع کرنے، اپنے اندر روحانی تغیر پیدا کرنے اور اپنے فرائض کو صحیح طور پر سمجھنے کی طرف نہایت ہی دل آویز پیرا یہ میں توجہ دلائی ۔ حضور کی اس تقریر کا خلاصہ الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۵۰ء میں بدیں طور پر شائع ہوا۔ اصل چیز تو بجٹ آمد انسانان ہے پس ہمارے زیادہ اخراجات ایسے ہونے چاہئیں