خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 428
خطابات شوری جلد سوم ۴۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بند کر دیتی ہے تو لوگ اُس کی اطاعت سے کندھا ہٹا لیتے ہیں اور بغاوت شروع ہو جاتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ہمیشہ قربانی کی عادت ڈالنی چاہیے ہر رسول جو دنیا میں آتا ہے اُسے حکومت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں وہ لے لو اور جس سے وہ منع فرماتے ہیں اُسے سے سے رک جاؤ صحابہ اس پر اس طرح عمل کرتے تھے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاتے تو نماز توڑ دیتے اور آپ کی خدمت خدمت میں حاضر ہو اضر ہو جاتے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو آواز دی اور آپ نے نماز توڑ کر فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا یہ تو قرآن کریم کا حکم ہے کہ جب رسول تمہیں آواز دے تو تم فوراً جواب دو۔ پس جب تک مرکز کہے گا کہ میں ہی تمہیں دے رہا ہوں اُس وقت تک بیرونی جماعتیں اُس کے ماتحت رہیں گی۔ اور جب یہ سوال آگیا کہ تم کھلاؤ میں کھاتا ہوں تو وہ کہیں گے جب کھلاتی ہیں تو ہم مرکز کیوں نہ بنیں ۔ پس مرکز کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور اُسے دوسرے سے کھانے کی نیت نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ چیز تم ہمیشہ مد نظر رکھو اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ پر غور کرو۔ جب تک کوئی انسان قربانی کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اُس کے اندر قربانی کا صحیح احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ مرکز ہمارے ہاتھوں میں رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اس کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے اس بارہ میں ٹھوکر کھائی ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ قانون اور استثناء الگ الگ ہوتے ہیں ۔ ہمارا اصل مرکز قادیان ہی سے ہمارا اصل مرکز قادیان ہی ہوگا اگر وہ کہیں چلا جائے ا ہے تو اُس کا وہاں جانا عارضی ہوگا۔ مثلاً کسی شخص سے میں کہوں کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ اور وہ کہے میں پشاور کا رہنے والا ہوں تو اس پر اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے یہ پشاور کا رہنے والا نہیں یہ تو ربوہ کا رہنے والا ہے تو غلط ہوگا ۔ جس طرح پشاور کا رہنے والا کوئی شخص اگر ربوہ آجائے تو اس سے