خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 411

خطابات شوری جلد سوم ۴۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء یہ رائے پیش کی کہ جس طرح ۲۶ ، ۲۷، ۲۸ دسمبر کو جلسہ ہوتا رہا ہے اسی طرح آئندہ بھی انہی تاریخوں میں جلسہ ہوا کرے۔ فیصلہ حضور نے فرمایا :- میں کثرت رائے کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جلسہ سالانہ بدستور ۲۷-۲۶ - ۲۸ دسمبر کو ہی منعقد ہوا کرے۔ اس کی تاریخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے ۔“ نیز فرمایا :۔ 66 جماعت احمدیہ اور سالانہ جلسہ ابتداء میں میری رائے یہ ہے یہ تھی کہ ہمیں جلسہ سالانہ کی تاریخوں کی تبدیلی کے متعلق غور کرنا چاہیے لیکن بعد میں آہستہ آہستہ غور کرنے کے بعد اور خصوصاً اس جگہ بعض دوستوں کی آراء سننے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ تاریخیں بدلنے کے فوائد سے اُن کو نہ بدلنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں ۔ دنیا میں باقی قوموں کو بھی اپنے اپنے مذہبی تہواروں پر رحمتیں ملتی ہیں اور حکومتیں اُن کے حق کو تسلیم کرتی ہیں ۔ کرسمس کی رحمتیں آخر کہاں سے آئیں؟ یہ رحمتیں اسی طرح منظور ہوئیں کہ عیسائیوں نے اصرار کیا اور اُن کا حق اُن کو مل گیا ۔ اسی طرح بسنت کہاں سے آئی؟ دسہرہ کہاں سے آیا ؟ ۔ یہ تعطیلات بھی اسی لئے منظور ہوئیں کہ ہندو قوم نے اصرار کیا اور حکومت کو اُن کے مطالبہ کے سامنے سر جھکانا پڑا۔ یا مثلاً شیعہ اقلیت میں ہیں مگر محرم کی رخصتیں گورنمنٹ منظور کرتی ہے کیونکہ شیعوں نے اپنے اس حق کا اصرار سے مطالبہ کیا اور وہ اس پر مضبوطی سے قائم رہے ۔ ان مثالوں پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ قوموں کا اپنے وقار کو قائم رکھنا بھی اُنہیں بہت بڑا تفوق دے دیتا ہے۔ اگر ہم بھی اپنے طریق کو قائم رکھیں تو خواہ کچھ عرصہ تک گورنمنٹ ہمارے مطالبہ کو تسلیم نہ کرے لیکن آخر اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ہمارا قومی حق ہے اور وہ مجبور ہوگی کہ ان ایام میں جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے رخصتیں منظور کرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلا سالانہ جلسہ (جیسا کہ خادم صاحب نے حوالہ نکال کر پیش کیا ہے ) ۲۷ ۲۸ ۲۹ دسمبر کو ہی ہوا تھا لیکن جہاں تک ہم نے تحقیق کی ہے اب تک اکثر ہمارا سالانہ جلسه ۲۶ ۲۷ ۲۸ / دسمبر کو ہی ہوتا رہا ہے بلکہ نوے فیصدی ہمارے سالانہ جلسے انہی تاریخوں میں ہوئے ہیں یہ الگ بات ہے کہ عارضی مجبوری کی وجہ سے کبھی اور تاریخوں