خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 406
خطابات شوری جلد سوم ۴۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ۱۲۸ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :۔ فیصلہ اکثریت تو اُن کی ہے جو سب کمیٹی کی تجویز کی تائید ؟ تائید میں ہیں لیکن چونکہ ہمارا اصل مقصد ڈی سنٹر لائزڈ کرنا ہے تا کہ مرکز پر بوجھ نہ پڑے بلکہ جو بوجھ پڑے مقامی حلقہ ہائے انتخاب پر پڑے اس لئے میں اقلیت کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ :۔ ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخابات میں یہ فیصلہ کہ کسی حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے ہر دو ہر حلقہ انتخاب کی جماعتیں باہمی مشورہ کے ساتھ اپنے ا۔ اپنے اپنے حلقہ امت کیا کریں گی اور ایسا فیصلہ قطعی ہوگا۔ انتخاب کے متعلق تیسری تجویز اس کے بعد سب کمیٹی کی یہ تیسری تجویز پیش ہوئی کہ :۔ اسمبلی کے انتخابات میں اس امر کا فیصلہ کہ کس حلقہ میں کس امیدوار کی مدد کی جائے ضلع کی امارت بہ پابندی مشورہ ان انجمن ہائے مقامی کے جو اس ضلع میں ہوں کرے گی اور جن اضلاع میں ابھی ضلع وار نظام قائم نہیں ہوا وہاں ضلع کے صدر مقام کی انجمن کی امارت یا صدارت به پابندی مشوره ان انجمن ہائے مقامی کے جو اس ضلع میں ہوں فیصلہ کرے گی اور ہر دو صورتوں میں آخری فیصلہ سے قبل مرکز سے بھی مشورہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس تجویز کے پیش ہونے پر حضور نے فرمایا کہ:- اگر اس تجویز کے خلاف کوئی دوست کہنا چاہتے ہوں تو وہ اپنا نام لکھوا دیں ۔“ اس پر صرف ایک دوست نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ حضور نے فرمایا:۔ 66 اسمبلی کے انتخابات میں جماعت احمدیہ کی پالیسی ماسٹر عبداللہ صاحب کا جو مشورہ ہے وہ دوستوں نے سن لیا ہے اسی طرح سب کمیٹی نے جو ریزولیوشن پیش کیا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے اصل میں اس وقت ایک رسہ کشی جاری ہے مرکز کہتا ہے کہ ہم نے اپنی پیٹھوں پر بہت ڈنڈے کھا لئے ہیں اور مخالفین کی طرف سے بہت طعنے سن لئے ہیں اب کچھ تم بھی سن لو اور وہ کہتے ہیں کہ آپ کو ڈنڈے کھانے کی مشق ہو چکی ہے اس لئے آپ ہی کھائیں ہمیں معاف کیا جائے ۔ اصل بات جو ہمیں مد نظر رکھنی چاہیے وہ صرف اتنی ہے کہ موجودہ سیاسی