خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 394
خطابات شوری جلد سوم ۳۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کے سامنے پیش کروں گا۔ اور میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ ذمہ داری بہرحال جماعت کے لوگوں کو اُٹھانی پڑے گی اور نفری پوری کرنی ہوگی ۔ پانچ سو ہی کا سوال نہیں بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ پندرہ پندرہ سو آدمی ہر وقت وہاں موجود ہوں ۔ فرض کرو کسی وقت پاکستان اور کسی اور ملک میں جنگ ہو جاتی ہے۔ تو اُس وقت جب تک لاکھوں لاکھ آدمی جان دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے پاکستان کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ فوجی افسروں سے جب بھی میری گفتگو ہوئی ہے میں نے ہمیشہ ان انہیں یہی کہا ہے کہ گولیوں اور توپوں سے تم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ تمہارے پاس اگر ایک گولی ہے تو دشمن کے پاس دس گولیاں ہیں ، تمہارے پاس ایک توپ ہے تو اُن کے پاس پانچ چھ تو ہیں ہیں، جو چیز تمہارے پاس زیادہ ہے اور دشمن کے پاس کم ہے، وہ قربانی کرنے والا آدمی ہے۔ تم اپنے آدمیوں کو مرواتے جاؤ اور کامیابی حاصل کرلو۔ گولی کی ضرورت آخر اسی لئے ہوتی ہے کہ آدمی کم مریں لیکن جب گولی کم ہو تو دوسرا علاج یہی ہوتا ہے کہ مرتے جاؤ اور بڑھتے جاؤ۔ پٹھانوں کی بہادری کی تعریف ہم نے دیکھا ہے۔ پٹھانوں کو بڑا دستی سمجھا جاتا ہے لیکن اُن میں یہی خوبی ہے کہ وہ مرنے سے نہیں ڈرتے ، مرتے جاتے ہیں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ مجھے ایک کرنل نے سنایا کہ کشمیر میں ایک بڑا سخت مورچہ تھا ۔ مہا راجہ کشمیر کا اس کے متعلق یہ اعلان تھا کہ وہ مورچہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہو سکتا ۔ یہ ان کی ایک خاندانی جگہ تھی جسے اُنہوں نے بڑا مضبوط بنایا ہوا تھا۔ اُس نے بتایا کہ ہمیں حکم ہوا کہ پٹھانوں کو آگے بھیجو۔ اُس وقت کابل کی طرف سے پاوندے آئے ہوئے تھے۔ فوجی افسر نے اُنہیں اپنے ساتھ لیا اور نقشوں سے بتانا شروع کیا کہ فلاں جگہ سے رستہ گزرتا ہے فلاں جگہ نالا ہے، فلاں رستہ بڑا خطرناک ہے کیونکہ وہاں دشمن نے مائنز بچھائی ہوئی ہیں۔ پہلے اس طرف سے جانا، پھر پہاڑی کے اُس طرف چلے جانا، پھر اس نالے کو عبور کرنا ، وہ گھبرائیں کہ یہ اپنی بات کو ختم کیوں نہیں کرتا اور یہ بتاتا کیوں نہیں کہ ہم نے کرنا کیا ہے ۔ جب وہ بات کر چکا تو اُنہوں نے کہا کہ تم صرف اتنا بتاؤ کہ ہم نے کرنا کیا ہے؟ اُس نے کہا فلاں قلعہ پر قبضہ کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا بس اتنی بات تھی۔ تم نے خواہ مخواہ