خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 374

خطابات شوری جلد سوم ۳۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ :- دو جو منتخب شدہ نمائندہ ہیں اُن میں سے جو موصی ہیں کھڑے ہو جائیں ۔ اس پر ۱۶۳ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :- 66 گل ٹکٹ ۳۱۰ تھے جن میں سے پچاس کے قریب نامزد ہیں ۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ منتخب شدہ نمائندے ۲۶۰ تھے جن میں سے ۱۶۳ موصی ہیں اور صرف ۹۷ کے قریب ایسے ہیں جو غیر موصی ہیں در حقیقت وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ انہیں کسی قدر تحریک کی جائے ۔ اگر انہیں ذرا بھی تحریک کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ فوراً موصی بن جائیں گے لیکن اس سے ہمارے بجٹ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ۔ پس باوجود اس کے کہ ایک بھاری اکثریت اس تجویز کے حق میں ہے۔ میں اقلیت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ مجلس شوری کی ممبری کے لئے وصیت کا ہونا ضروری نہیں ۔“ 66 بجٹ آمد کی منظوری کا اعلان حضور نے فرمایا :- وو ” اب جو دوست صدرانجمن احمدیہ کے پیش کردہ بجٹ آمد کو میری ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ ۲۳۲ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :- دو 66 ۲۳۲ دوست اس بات کے حق میں ہیں کہ اسے منظور کر لیا جائے چونکہ یہ ایک بہت بڑی اکثریت ہے اس لئے دوسری رائے کی ضرورت نہیں میں اپنی پیش کردہ ترامیم اور اضافوں کے ساتھ صدر انجمن احمد یہ کے بجٹ آمد کو منظور کرتا ہوں۔“ بجٹ اخراجات کی منظوری کا اعلان ” اب جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے جو اخراجات کا بجٹ پیش کیا گیا ہے اُسے منظور کر لیا جائے اس شرط کے ساتھ کہ گرانٹ سے متعلق جو امور میں نے بیان کئے ہیں اُن کو مدنظر رکھا جائے اور سیالکوٹ، راولپنڈی اور کراچی کی جماعتوں کی امداد کو مد نظر رکھتے ہوئے اُنہیں قواعد کے مطابق ایک معین رقم خرچ 66 کرنے کی اجازت ہو وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ سب دوست کھڑے ہو گئے ۔ حضور نے فرمایا :-