خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 361
خطابات شوری جلد سوم ۳۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء ڈیڑھ ڈیڑھ اور سو اسوا روپیہ من گندم پکا کرتی تھی لیکن اس جلسہ کے موقع پر جو گندم ہمیں ملی اور جس کا کچھ حصہ احمدیوں سے اور کچھ غیر احمدیوں سے خریدا گیا وہ سولہ روپیہ من کے حساب سے ملی ہے یعنی جو گندم آجکل ہم سلسلہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں وہ سولہ روپے من کے حساب سے ہم نے خرید کی ہے جبکہ گندم کا کچھ حصہ مخلصین نے مفت بھی مہیا کیا ہے یا بہت معمولی قیمت پر دیا ہے ورنہ ممکن تھا کہ سترہ اٹھارہ روپیہ من اس کی قیمت جا پڑتی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زمینداروں کی آمد پہلے سے بارہ گنا بڑھ گئی ہے۔ یہی حال کپاس کا ہے کپاس پانچ پانچ ، چھ چھ روپے پر پکا کرتی تھی مگر اب اُس کی قیمت پچیس پچھیں اور چھبیس چھبیس روپے ہے گویا پانچ گنا قیمت بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح گڑ دو روپیہ من فروخت ہوا کرتا تھا مگر اب چالیس چالیس روپیہ من پک رہا ہے جب جماعت کے دوستوں نے ان ذرائع سے اپنی آمدنیوں کو بڑھایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے زیادہ رزق عطا فرمایا ہے تو یہ کتنی قابل افسوس بات ہے کہ وہ اب تک حفاظت مرکز کے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے حالانکہ ان وعدوں پر دو سال کا عرصہ گزر رہا ہے پس میں ہدایت کرتا ہوں کہ اس بجٹ میں دو زیا دتیاں کی جائیں ۔ اوّل تین لاکھ روپیہ حفاظت مرکز کے سلسلہ میں جماعت سے وصول کیا جائے اور یہ کم سے کم چندہ ہے جس کی وصولی کی بیت المال سے امید کی جاتی ہے ورنہ اگر صحیح طریق پر کام کرے تو پورا چھ لاکھ رو پید ا سے وصول کرنا چاہیئے ۔ دوسرے کم سے کم ایک لاکھ روپیہ تعمیر ربوہ کی غرض سے چندہ کی آمد میں بڑھایا جائے اور یہ بھی کم سے کم روپیہ ہے ورنہ بیت المال اگر صحیح طور پر کام کرے تو موجودہ چندہ سے دو گنا چندہ لیا جا سکتا ہے اور سات آٹھ لاکھ روپیہ کی بچت ہو سکتی ہے۔ تیسری تجویز میری یہ ہے کہ ہمیں ایک لاکھ روپیہ ریز روفنڈ میں بھی بڑھانا چاہیئے اس طرح عام آمدن میں دو لاکھ کی زیادتی ہوگی اور حفاظت مرکز کے لئے تین لاکھ کی وصولی ہوگی اس سے بجٹ پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑتا۔ اگر کمزور ایمان والوں اور منافقوں نے چندہ نہ دیا تو بہر حال حفاظت مرکز کا کام اُن کاموں میں سے ہے جنہیں کسی صورت میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اگر ہمیں اپنے مدر سے XXXX