خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 324

خطابات شوری جلد سوم ۳۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء بھر پور کوشش نہیں کرتی اور جو لوگ چندہ دینے میں سُست ہیں یا قطعی طور پر چندہ نہیں دیتے اُن کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گھلے الفاظ میں ایسے لوگوں کے متعلق سزا مقرر فرمائی ہے اور جب ایک تعزیر اس کے لئے مقرر ہے تو ہم کیوں اس کا نفاذ نہیں کر سکتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص تین مہینے تک چندہ نہیں دیتا اُسے جماعت سے خارج کر دیا جائے ۔ اس سزا کے نفاذ میں مشکل ہی کون سی ہے اگر دو کروڑ نہیں ، دو ارب آدمی بھی ہمارے ساتھ ایسا شامل ہو جاتا ہے جو در حقیقت ہمار انہیں تو اُن کے الگ ہونے سے ہمیں کیا صدمہ ہو سکتا ہے جماعت وہی ہے جو زندہ ہو جو زندہ نہیں وہ جماعت کہلانے کی مستحق نہیں ۔ ایک جماعت نہایت مخلص کہلاتی ہے میں اُس کا نام نہیں لیتا اخباروں میں بعض دفعہ اُس کا نام خوب اُچھلتا ہے کہ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں شامل ہونے کا ثواب اس جماعت نے حاصل کر لیا ہے مگر ہوتا کیا تھا ہوتا یہ تھا کہ پہلے تو اُنہوں نے بڑھ چڑھ کر وعدے کر دینے مگر اس کے بعد سالہا سال ایک پیسہ بھی چندہ میں نہ دینا پھر کبھی خیال آتا تو ایک دن عہدیدار بیٹھ جاتے اور لکھتے حضور ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ پچھلے پانچ سال سے ہماری جماعت نے کوئی چندہ نہیں دیا۔ اس خبر کے معلوم ہونے پر جماعت کو بُلایا گیا اور اُس کو خوب ڈانٹا گیا حضور وہ سب کے سب روئے اور چھینے اور چلائے ۔ اور سب کے اندر سچی ندامت پیدا ہوگئی ۔ اُس وقت ہم نے کہا پچھلا چندہ ہم تم کو معاف کر دیتے ہیں مگر دیکھنا آئندہ احتیاط سے کام لینا ۔ چنانچہ اُنہوں نے خوب رو رو کر توبہ کی اور اب اُن کا تو بہ نامہ حضور کی خدمت میں بجھوایا جا رہا ہے اُمید ہے کہ حضور بھی پسند فرمائیں گے آئندہ جماعت چندہ دینے میں بالکل باقاعدہ رہے گی اس تو بہ نامہ کے بعد پھر پانچ سال تک وہ جماعت خاموش رہتی اور کوئی چندہ نہ دیتی چار پانچ سال کے بعد پھر اُس کی طرف سے خط آجاتا کہ حضور ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ جماعت نے پھر پچھلے چار پانچ سال سے کوئی چندہ نہیں دیا حضور ہم نے جماعت کو بلایا اور اُسے وعظ کیا اس کا جماعت پر بہت اثر ہوا کہ اُس کی چیخیں نکل گئیں اور سب روئے اور چلائے مگر حضور یہ دیکھ کر کہ پچھلا بقایا بہت زیادہ ہے اور اب اُس کے ادا کرنے کی جماعت میں طاقت نہیں ہم نے کہا لو تمہیں پچھلا چندہ ہم معاف کرتے ہیں اب آگے با قاعدہ چندہ