خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 321

خطابات شوری جلد سوم ۳۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء سکھوں اور ہندوؤں نے قبضہ کیا ہوا ہے ، دکانوں پر سکھوں اور ہندوؤں نے قبضہ کیا ہوا ہے، زمینوں پر ہندوؤں اور سکھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور جائدادوں پر سکھوں اور ہندوؤں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس لئے وہاں جو بھی رہے گا بہر حال سلسلہ ہی اُس کو کھلائے گا۔ پھر صرف وہاں رہنے سے قادیان واپس نہیں مل سکتا بلکہ اُس کے لئے پراپیگنڈے کی ضرورت ہے، کہیں امریکہ میں پراپیگنڈا کرنا پڑتا ہے، کہیں انگلستان میں پراپیگنڈا کرنا پڑتا ہے، کہیں ہندوستان میں پراپیگنڈا کرنا پڑتا ہے ، کہیں پاکستان میں پراپیگنڈا کرنا پڑتا ہے اس لئے بجائے اس کے کہ حفاظت مرکز کا کام بند ہو گیا ہو وہ بڑھ گیا ہے اگر پچھلے وعدوں کو مد نظر رکھا جائے تو تیرہ لاکھ کے وعدے تھے دو تین لاکھ تو اس طرح ختم ہو گیا کہ جائدادیں تباہ ہو گئیں ۔ گو میں نے ایسے لوگوں کو نصیحت یہی کی ہے کہ تم نیت یہی رکھو کہ حالات اچھے ہونے پر ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے لیکن بہر حال تین لاکھ کی رقم کسی طرح بھی اس سال ادا نہیں ہو سکتی إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ باقی دس لاکھ میں سے پانچ ، ساڑھے پانچ لاکھ خرچ بھی ہو چکا ہے اگر بقیہ پانچ لاکھ بھی مل جائے تو اگلا سال گزر جائے گا اور اُس میں کوتاہی اور غفلت ہوئی تو اُس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہمیں پھر مخلصین جماعت سے ہی مانگنا پڑے گا۔ لیکن یہ سال اگر گزر بھی جائے تب بھی آئندہ سالوں میں چار پانچ لاکھ روپیہ سالانہ ہمیں اس غرض کے لئے رکھنا پڑے گا جو حفاظت قادیان کے کام آئے اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک قادیان ہمیں نہیں مل جاتا اس لئے یہ جو بجٹ ہے اس میں حفاظت قادیان کی ایک بہت بڑی رقم شامل نہیں ۔ میں نے بتایا ہے کہ اگر دوستوں نے جو وعدے کئے ہیں اُن کو وہ پورا کریں تو اُمید ہے کہ اگلا سال گزر جائے گا اور اگر نہ کریں تو اُن کو مزید بوجھ برداشت کرنا پڑے گا ۔ اس کے علاوہ اگر ہمیں قادیان مل جائے تب بھی کچھ خرچ کئے بغیر ہم قادیان کو اُس کی اصل حالت میں واپس نہیں لا سکتے ۔ گھروں میں بیٹھ رہنا اور اُمیدیں لگا لینا اور بات ہے اور واقعات اور چیز ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ سکھوں اور ہندوؤں نے مکانوں کے دروازے جلا دیتے ہیں ، چھت اُکھیڑ دیئے ہیں اور کئی مکان توڑ پھوڑ دیئے ہیں۔ قادیان میں ہمارا ایک کروڑ روپیہ لگا ہوا ہے۔ اگر سکھ اور ہندو ہمارے مکان خالی بھی کر دیں تب بھی قادیان میں ٹوٹی ہوئی دیواریں ہی ملیں گی ۔ ایسی حالت میں اگر ہم نے