خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 283
خطابات شوری جلد سوم ۲۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء رسول کریم صلی اللہ علیہ و اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک مچان کے بنا دیا اور آپ سے عرض کیا کہ یا رسول الله ! آپ اس پر تشریف رکھیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اُنہوں نے آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے عرض کیا پھر دو سب سے تیز رفتار اونٹنیاں اُنہوں نے چنیں اور آپ کے پاس باندھ دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا تم یہ کیا کر رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کمزور ہیں اور دشمن بہت زیادہ طاقتور ہے ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ہماری کمزوریاں ابتلاء کا موجب بن جائیں ۔ یا رسول اللہ ! ہم نے بہادر ترین انسان کو آپ کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا ہے اور دو تیز سے تیز اونٹنیاں آپ کے پاس باندھ دی ہیں یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور ہو اور ہماری کمزوریاں اسلام کی فتح کے رستہ میں حائل ہو جائیں یا رَسُولَ اللہ ! اگر آپ ہمارا انجام خطرناک دیکھیں تو آپ ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں وہاں ہمارے کچھ بھائی موجود ہیں جو ایمان اور اخلاص میں ہم سے کم نہیں لیکن اُنہوں نے خطرے کی اہمیت کو نہیں جانا ۔ يَا رَسُولَ اللہ ! جب آپ اُن میں جائیں گے تو آپ اُن میں ہمارے جیسا ہی جوش پائیں گے 2 اسی طرح مجھے بھی یقین ہے کہ ابھی بہت بڑی تعداد مخلصین کی باقی ہے جب آپ لوگ سچے دل سے ان حالات کو اُن کے سامنے بیان کریں گے تو وہ بھی آپ کی طرح بلکہ بہت سے آپ سے بھی بڑھ کر اخلاص کا نمونہ پیش کریں گے۔ بہر حال جب شہروں میں پورے طور پر اس تحریک امانت کو بیان کیا جائے گا تو مجھے یقین ہے کہ مطلوبہ رقم سے بہت زیادہ رقم فوری طور پر جمع ہو جائے گی ۔ اسے جمع وقف جائیداد کی تحریک دوسری چیز وقف جائیداد ہے کہتے ہیں نہ نمک گئے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا ! اب تک تو دوستوں کو مفت کا ثواب مل رہا تھا اور صرف نیت کر لینے کی وجہ سے وہ ثواب لے رہے تھے جس وقت میں نے اس تحریک کو شروع کیا تھا اُس وقت میرے مدنظر یہی تھا کہ ہنگامی طور پر جب کبھی اخراجات کی ضرورت پیش آئے گی تو ہم وقف جائیداد والوں سے پانچ دس دن کے اندر اندر روپیہ وصول کر لیں گے اور لوگوں سے عام چندے کی تحریک کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ۔ ان مقاصد کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تحریک کے