خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 274

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں اور لوگ تبلیغ کرنے کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں میرا ارادہ ہے کہ دو تین سالوں میں مبلغین کی تعداد پانچ سو تک پہنچا دی جائے اور جوں جوں ضرورت بڑھتی جائے ہم اس تعداد میں زیادتی کرتے چلے جائیں اور یہ تعداد کئی ہزار تک پہنچ جائے۔ تبلیغ کے متعلق جہاں تک میں نے تجربہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر نوجوان جو تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں گئے ہوئے ہیں وہ اکثر جگہوں میں کامیاب ہوئے ہیں اور اُن کی تبلیغ کے نتائج نہایت خوشکن ثابت ہو رہے ہیں مثلاً امریکہ میں ہی جوں جوں ہم اپنی تبلیغ کو وسیع کرتے جارہے ہیں مبلغین کی مانگ بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بعض دوستوں کی تو یہاں تک رائے ہے کہ اگر کچھ عرصہ تک ان علاقوں میں ہوشیاری اور محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کیا جائے تو ہیں پچھیں بلکہ تمہیں ہزار سالانہ نیا آدمی جماعت میں داخل ہونا کچھ بھی مشکل نہیں ۔ اگر وہاں کے پچھیں تمہیں ہزار آدمی سالانہ نئے جماعت میں داخل ہوں تو آمدنی بھی بڑھ جائے گی اور مبلغین کے اخراجات بھی وہاں کی جماعتیں نہایت آسانی سے برداشت کرنے کے قابل ہو جائیں گی اب بھی وہاں کی جماعت کو تھوڑی ہے مگر ہزاروں ہزار روپیہ اُن کی طرف سے آرہا ہے اور اگر آئندہ ہم اپنی تبلیغ کو بڑھائیں گے تو یقیناً یہ ہمارے لئے مفید ہوگا ۔ مبلغ کا وجود در حقیقت برف کے پانی کی طرح ہوتا ہے کہ جوں جوں پیتے جائیں پیاس زیادہ لگتی ہے اسی طرح ایک مبلغ کے بعد دوسرے مبلغ کی ضرورت پڑتی ہے اگر ہم تبلیغ کے خوش کن نتائج اور موجودہ ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تین سو دیہاتی مبلغین کا اضافہ کریں تو ہمارا خرچ تین لاکھ سالانہ بڑھ جائے گا اور اگر یہ تعداد ایک ہزار تک پہنچا دی جائے تو سات آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ بجٹ بڑھ جائے گا ہم ان حالات کی موجودگی میں جو اس وقت ہمیں نظر آ رہے ہیں انشراح صدر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب ہندوستان کے اندر کیا اور غیر ممالک میں کیا لوگوں کی طبائع کے اندر احمدیت کی طرف توجہ کرنے کا احساس پایا جاتا ہے۔ ہمارے دو مبلغ کراچی میں کام کر رہے ہیں اور کراچی کے مضافات میں بھی احمدیت کا بہت چرچا ہے چنانچہ اس دفعہ جب میں سندھ گیا تو ایک ایگزیکٹو انجینئر صاحب اور ایک کیپٹن صاحب بیعت کے لئے