خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 272

خطابات شوری جلد سوم ۲۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اب بجٹ کی بعض باتوں کے متعلق میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ دو ا۔ بجٹ کے صفحہ ۱۶ پر لکھا ہے کہ گھٹیا لیاں سکول کو ۳۸۹۲ روپیہ مدد دی جائے گی اور اس کے ساتھ نوٹ یہ ہے کہ معاہدہ یہ ہے کہ فیسوں اور سرکاری گرانٹ کی آمد کو وضع کر کے باقی اخراجات کا نصف مقامی جماعت برداشت کرے گی اور نصف صدر انجمن احمد یہ ۔ گویا ۱۹۴۶ روپیه مقامی جماعت کی طرف سے داخل خزانہ ہونے پر ۳۸۹۲ روپیہ انہیں مل سکیں گئے اب اس کو بجٹ کے صفحہ ۶ پر آمد میں دیکھیں تو وہاں امداد از جماعت گھٹیالیاں برائے نصف اخراجات ۲۸۶ ۱ روپے کی رقم درج ہے ۔ میرے نزدیک یہ غلط ہے ۳۸۹۲ روپے کا نصف ۱۹۴۶ روپے ہونا چاہیے نہ کہ ۱۲۸۶ روپے ۔ اسی طرح ۶۶۰ روپیہ کی رقم ہماری آمد میں سے کم ہو جائے گی ۔ ۲۔ زود نویسی کے محکمہ میں چار زود نویسوں کا خرچ رکھا گیا ہے مگر کام صرف تین زودنویس کر رہے ہیں چوتھا زودنویس اب تک محکمہ کو ملا ہی نہیں گویا ایک زودنویس کا خرچ محض زائد طور پر دکھایا گیا ہے ۔ ۔ بجٹ میں ایک اور شقم یہ ہے کہ ایک صیغہ کے اخراجات دوسرے صیغہ میں دکھائے گئے ہیں مثلاً ناظر صاحب اعلیٰ کی تنخواہ نظارت تألیف و تصنیف میں رکھی گئی ہے جو ہرگز درست نہیں۔ اگر انجمن نے کسی صیغہ سے کوئی شخص اپنی ضرورت کے لئے لے لیا ہے تو اُس کا لیا تو خرچ بھی اُسی صیغہ میں پڑنا چاہیے جس نے لیا ہے نہ کہ وہ صیغہ برداشت کرتا رہے جس سے لیا گیا ہے۔ اسی طرح ریویو میں ایک آدمی دعوت و تبلیغ سے لیا گیا ہے مگر خرچ بجائے ریویو کے اب تک دعوۃ و تبلیغ پر پڑ رہا ہے جو میرے نزدیک ہرگز درست نہیں آئندہ ان و رہا باتوں کی اصلاح ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ طریق کہ ایک صیغہ کا خرچ دوسرے صیغہ کو برداشت کرنا پڑے درست نہیں ۔ ۴ صدرا صد را نجمن احمد یہ کے کارکنان کے مہنگائی الاونس کے متعلق سب کمیٹی نے لکھا ہے کہ بجٹ دیباچہ میں صدرانجمن احمد یہ نے کارکنان کے گرانی الاؤنس کے اضافہ کے لئے ۲۷۰۰۰ روپیہ کے مزید خرچ کا جو ذکر کیا ہے وہ ضرور قابل غور ہے اور اس خرچ کو بجٹ میں شامل کر کے منظور کرنا چاہیے۔ مگر میرے نزدیک یہ معاملہ اس وقت پیش نہیں ہو سکتا