خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 263
خطابات شوری جلد سوم ۲۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء چاہیں تو کر دیں اور اگر زبانی اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں تو اپنے نام لکھوا دیں ۔ 66 اس پر بعض اصحاب نے اپنے نام لکھوائے اور جب تمام دوست اظہار خیال کر چکے تو حضور نے فرمایا:۔ آمد کو بڑھانے کے متعلق بعض دوستوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ میں دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں ، مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری کی تجاویز یہ ہیں :۔ ا۔ جن موصی صاحبان نے ۱۰ را کی وصیت کی ہوئی ہے وہ اسے بڑھا کر ۹را کر دیں ۔ ۲۔ چند عام بجائے ایک آنہ فی روپیہ کے ڈیڑھ آنہ فی روپیہ مقرر کیا جائے اسی طرح میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر کی تجویز یہ ہے کہ :۔ ۲۵۰ روپیہ ماہوار آمد تک شرح چندہ بدستور رہے ۲۵۰ روپیہ سے لے کر ۵۰۰ روپیہ تک چھ پیسے کر دی جائے اور ۵۰۰ روپے سے ۱۰۰۰ روپے تک کی آمدنی والوں کے لئے شرح چندہ دو آنے اور ۱۰۰۰ روپے سے اُو پر آمدنی والوں کے لئے چار آنے ہو۔ ان تجاویز کے متعلق میں دوستوں سے رائے لینا چاہتا ہوں لیکن مولوی ابو العطاء صاحب کی تجویز کو منظور کرنے کے معنی یہ ہونگے کہ آئندہ یہ قانون بن جائے گا کہ ہر شخص ضرورہ ارا کی بجائے ۹ ر ا حصہ کی وصیت کرے گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ۱۰ را حصہ وصیت کرنے کی جماعت کو جو اجازت فرمائی ہوئی ہے یہ قانون اسے منسوخ کر دے گا جو دوست مولوی ابو العطاء صاحب کی اس تجویز کے حق میں ہوں کہ وصیت کے 66 لئے ۱۰ را کی بجائے ۹ را کی حد بندی کر دی جائے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ اس تجویز کے حق میں کوئی دوست کھڑے نہ ہوئے ۔ حضور نے فرمایا:۔ کوئی دوست اس تجویز کے حق میں نہیں ہیں اور میرے نزدیک بھی دوستوں کی رائے بالکل درست ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بنایا ہوا قانون ہے اس لئے ہم اس قانون کو نہ تو بدل سکتے ہیں اور نہ منسوخ کر سکتے ہیں یوں اگر اس کے متعلق وعظ و نصیحت سے کام لیا جائے اور کہا جائے کہ وصیت کرنے والے سلسلہ کی ضروریات کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ قربانی کریں اور ۱۰ را سے بڑھا کر ۹ را یا ۸ رایا ۷ را یا ۶ را یا ۵ را یا ۴ را یا ۳ را کی وصیت کریں تو یہ جائز ہوگا لیکن یہ ہرگز جائز نہیں ہو سکتا کہ ۱۰ را کو منسوخ کر کے ہم