خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 257
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ان ہر دو کے ہوسٹلوں کی جدید عمارت کے واسطے اس سال پچیس ہزار روپیہ کی رقم منظور کی منظور کی جائے لیکن یہ رقم اس دو لاکھ روپے کی رقم میں سے جو بجٹ میں ریز روفنڈ کے طور پر رکھی گئی ہے خرچ کی جائے ۔ اس کے متعلق اگر کسی دوست نے ترمیم پیش کرنی ہو تو لکھ کر دے دے اور اگر زبانی اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہو تو اپنا نام لکھا دے۔“ اس پر مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری نے یہ ترمیم پیش کی کہ مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمد یہ اور ان ہر دو کے ہوسٹلوں کے لئے زمین خریدنے کے لئے پچیس ہزار روپیہ ریز روفنڈ سے نہ لیا جائے بلکہ بجٹ 48-1947 ء میں اس کے لئے الگ رقم رکھی جائے اور یہ رقم بجٹ میں اضافہ کر کے دی جائے ۔ جب چند نمائندگان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تو حضور نے فرمایا:۔ دو میں اب مولوی ابوالعطاء صاحب کی ترمیم دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں ترمیم یہ ہے کہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ اور ان ہر دو ہوسٹلوں کے لئے زمین خریدنے کے لئے پچیس ہزار روپیہ ریز روفنڈ سے نہ لیا جائے بلکہ بجٹ 48-1947ء میں اس کے لئے الگ رقم رکھی جائے ۔ جو دوست مولوی ابو العطاء صاحب کی اس ترمیم کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں ۔ صرف آٹھ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا:۔ دو جو دوست سب کمیٹی کی اس تجویز کے حق میں ہوں کہ یہ پچیس ہزار روپے کی رقم ریز روفنڈ کے دولاکھ میں سے خرچ کی جائے وہ کھڑے ہو جائیں ۔“ اس پر ۳۰۴ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :۔ وو 66 دو تین سو چار دوست اس بات کی تائید میں ہیں کہ مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمد یہ اور ان ہر دو کے ہوسٹلوں کے لئے زمین خریدنے کے لئے پچیس ہزار روپیہ کی رقم ریز روفنڈ سے دی جائے مگر میں اس کے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھتا ہوں ۔“ 66