خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 248

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء علاجوں کے ایک علاج یہ بھی بتایا تھا کہ کثرت کے ساتھ شادیاں کرو۔ مگر باوجود اس کے کہ مردوں کو قتل کر دیا گیا۔ عورتوں کی عصمت دری کی گئی ، عورتوں کے پستان کاٹے گئے ، اُن کی شرم گاہوں میں نیزے مارے گئے پھر بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم مغربیت نہیں چھوڑیں گے ہم کثرت ازدواج پر عمل نہ خود کریں گے اور نہ کسی دوسرے کو عمل کرنے دیں گے۔ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جو شخص خود اندھا ہے وہ دوسرے شخص کو کس طرح رستہ دکھا سکتا ہے ۔ مغرب والے تو اندھے ہی ہیں ہم کیوں اندھے بن جائیں ۔ ہمارے لئے تو اسلام نے ضرورت کے موقع پر کثرت ازدواج پر زور دیا ہے کجا یہ کہ ایک شخص کی بیوی مر جائے اور اُسے رشتہ نہ دیا جائے ۔ رشتہ ناطہ کے بارہ میں ضروری ہدایات میں نے دیکھا ہے لوگ رشتہ کے معاملہ میں مالی حالت پر زیادہ نظر رکھتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا گنده رشتہ ملتا ہے کہ عمر بھر کی مصیبت گلے پڑ جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی نظریں چونکہ بہت زیادہ بلند ہوتی ہیں اس لئے ان کو اپنی منشاء کے مطابق رشتہ نہیں ملتا اور لڑکیوں کی عمریں چالیس سال سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں۔ یہ حالات بہت پریشان کن ہیں ۔ ان کے ازالہ کی جلد فکر کرنی چاہیے ۔ میرے نزدیک شادیوں کے معاملہ میں بہت زیادہ چھان بین ٹھیک نہیں ہوتی اور لڑکیوں کو زیادہ عرصہ تک گھر بٹھائے رکھنا مناسب نہیں ہوتا ۔ خدا تعالیٰ کے قانون کو تم بدل نہیں سکتے ۔ انسان کو ایک حد تک چھان بین کرنی چاہیے۔ اس کے بعد معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے۔ بعض لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ میں تین چار سو روپیہ لے رہا ہوں اور لڑکا بھی تین چار سو روپیہ ماہوار لینے والا ہونا چاہیے اور کم از کم وہ بھی میری پوزیشن کا ہونا چاہیے ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ چار سو روپیہ ۳۵ سال کی ملازمت کے بعد لے رہے ہیں ۔ جب وہ لڑکا اُن کی عمر کو پہنچے گا تو وہ بھی تین چار سو روپیہ لینے والا ہو جائے گا اور اگر چار سو روپیہ ہی سٹینڈرڈ مقرر کر دیا جائے تو پھر سوائے آئی سی ۔ ایس۔ کے باقی نو جوان شادی کے قابل ہی نہ رہیں یہ باتیں ایسی نا معقول ہیں کہ مجھے حیرت آتی ہے کہ ان لوگوں کے دماغ کہاں گئے ہیں ۔ اس قسم کی سب باتیں میرے نزدیک لغو اور فضول ہیں۔ پھر بعض لوگ اس سے بھی تجاوز کر کے شرائط مقرر کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ کپڑا اتنا ہو،