خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 194

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۶ء بہر حال اصل چیز یہ ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ جماعت کے افراد کی رائے کا احترام کرنے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مسائل پر غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ جماعت کی ذہنی حالت ترقی کی طرف جائے۔ چونکہ اس وقت کثرت رائے نے ایک قاعدہ تجویز کیا ہے، اس لئے میں اس کی مخالفت تو نہیں کرتا لیکن جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا تھا میرے نزدیک جماعت کو ہی انتخاب کا موقع دینا چاہئے تھا بجائے اس کے مجلس عاملہ کو اس کا اختیار دیا جاتا ۔ مگر چونکہ اب یہ قاعدہ کثرت آراء سے بن چکا ہے کہ مجلس عاملہ زائد ممبروں کا انتخاب کرے اس لئے میں اس کے خلاف فیصلہ نہیں دیتا لیکن میرا میلان اسی طرف ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ جماعت کو ان امور میں حصہ لینے کا موقع دینا چاہئے تا کہ جماعت کی ٹریننگ ہو اور اس کے تمام افراد سلسلہ کے کاموں کی اہمیت کا صحیح احساس رکھ سکیں۔ میرے نزدیک اس میں کوئی دقت بھی نہیں ہو سکتی ۔ ہماری شریعت نے جمعہ کا دن ایسا مقرر کیا ہے جس میں ایک گاؤں یا ایک شہر کی جماعت کے تمام افراد خود بخود ا کٹھے ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ اسلامی شریعت میں کورم کا کوئی سوال ہی نہیں اس لئے جو لوگ آ جائیں گے اُن کی رائے کو وقعت حاصل ہو جائے گی اور جو نہیں آئیں گے وہ محروم رہ جائیں گے۔ اگر صلح اور آشتی سے جس طرح میاں بیوی میں محبت ہوتی ہے کام ہوں تو کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ایسی صورت میں ”من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں مھدی والا معاملہ ہو جاتا ہے اور یہی روح ہر زندہ اور بڑھنے والی جماعت کے اندر کام کیا کرتی ہے۔ مجھے یاد ہے قادیان میں مولوی عبدالکریم صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب دونوں قریب قریب مکانات میں رہتے تھے مولوی عبدالکریم صاحب جو شیلی طبیعت رکھتے تھے اور پیر صاحب کی طبیعت بہت نرم تھی۔ پیر صاحب کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو اکثر ریں ریں کرتے رہتے اور پیر صاحب انہیں سارا دن تھپکاتے اور بہلاتے رہتے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ شہر میں تو پیر صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب ایک دوسرے کے ہمسائے تھے ہی، جب زلزلہ کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باغ میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی یہ دونوں پاس پاس رہنے لگ گئے ۔ ایک دن پیر صاحب مسجد میں آئے تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بڑے جوش سے کہنے لگے پیر صاحب! میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ