خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 190

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۶ء رائے کا موقع بے شک ہر ایک کو مل جائے لیکن اس کے بعد اگر کام کرنے میں روک پیدا ہو تو جس کے ہاتھ میں اُس کام کی کنجی ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کرے اور جو کام کہ وہ نہ ہے اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے کر گزرے۔ کام کے دوران میں اگر اس سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور بعد میں اسے سزا ملتی ہے تو بے شک وہ سزا قبول کر لے مگر کام کو نقصان نہ پہنچنے دے۔ دنیا میں جس قدر عقلمند قو میں ہیں ان میں بعض قسم کی سزاؤں کو بُرا نہیں سمجھا جاتا، بے شک بعض سزائیں ایسی ہیں جو بری سمجھی جاتی ہیں مثلاً چوری کی سزا کو بُراسمجھا جاتا ہے یا ڈاکہ کی سزا کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کسی کو اس لئے سرزنش کی جاتی ہے کہ اس نے وقت پر غلط فیصلہ کیوں کیا تو یہ بُری بات نہیں ، اس کے معنے یہ ہیں کہ اس نے قومی روح کو زندہ رکھا اور غلطی کی سزا جب اُسے ملی تو اُسے خوشی سے برداشت کر لیا۔ جب ایک جرنیل کسی جگہ لڑائی کرتا ہے تو بعض دفعہ اُس سے غلطی بھی ہو جاتی ہے جس کی اُسے سزا ملتی ہے مگر یہ سزا بالکل اور رنگ کی ہوتی ہے لیکن اگر وہ میدان چھوڑ دے اور یہ کہے کہ چونکہ مجھے احکام نہیں آئے اس لئے میں لڑائی نہیں کر سکتا تو اس کو جو سزا ملے گی وہ ذلت ورسوائی والی ہو گی لیکن پہلی سزا قوم کے فکر کو بلند کرنے والی ہو گی ۔ ایک میں وہ قربانی کا بکرا بنتے ہو۔ گا مگر قوم کا خادم سمجھا جائے گا باغی نہیں سمجھا جائے گا اور دوسری سزا وہ ہو گی جس میں وہ باغی اور ملک کا غدار قرار دیا جائے گا۔ تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے زبردستی کی لیڈری منع ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ ایسے امام پر فرشتے لعنت ڈالتے ہیں جسے جماعت پسند نہیں کرتی ہے اور گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے مگر بہر حال ہم اس سے استنباط کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ایک جماعت کی امامت میں اس امر کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ جماعت اپنے امام کے خلاف نہ ہو اسی طرح امارت اور دوسرے مہدوں میں بھی ہمیں اس اصول کو مد نظر رکھنا چاہئے ۔ اگر ایک امیر جماعت کو اپنے ساتھ چلا نہیں سکتا تو اُسے واضح طور پر مرکز میں اپنا معاملہ پیش کرنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ میں جماعت کو اپنے ساتھ چلا نہیں سکتا میں نے