خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 185
خطابات شوری جلد سوم ۱۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۶ء حنفی جب سجدہ کرتے ہیں تو یہ پتہ نہیں لگتا کہ مومن سجدہ کر رہا ہے یا مرغا دانے چن رہا ہے۔ اب لفظ وہی ہیں اور ان الفاظ کا کوئی انکار نہیں کرتا ۔ مگر آگے تو جیہات میں فرق ہوتا جاتا ہے اور ذہن انسانی بڑے بڑے تغیرات پیدا کر دیتا ہے، چنانچہ باوجود قانون کی موجودگی کے جب انسان بحث میں پڑتا ہے تو ایسی ایسی باتیں نکال لیتا ہے جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک سخت گیر آتا تھا اور وہ اپنے نوکروں سے ایسا سخت سلوک کرتا تھا کہ وہ تنگ آکر ملازمت ترک کر دیتے ۔ جب وہ ملازمت چھوڑتے تو وہ ان کی تنخواہیں ضبط کر لیتا اور کہتا کہ چونکہ تم نے میری کامل اطاعت نہیں کی اس لئے گزشتہ تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکتیں۔ ایک دفعہ اُس کے پاس ملازمت کے لئے ایک شخص آیا جو بہت ہوشیار تھا، اس نے آتے ہی کہا کہ مجھے آپ کی فرمانبرداری سے قطعاً انکار نہیں۔ میں ہر معاملہ میں آپ کی اطاعت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن دیکھئے میری عقل ناقص ہے، مجھے کیا پتہ کہ کون سا کام مجھے کرنا چاہئے اور کون سا کام مجھے نہیں کرنا چاہئے ۔ آپ میرے فرائض کی ایک فہرست بنا دیجئے تا کہ مجھے اپنے کام یادر ہیں اور مجھ سے کسی قسم کی غفلت سرزد نہ ہو۔ اُس کے آقا نے ایک فہرست بنائی اور تمام کام جو اس کے ذہن میں آسکتے تھے وہ اُس نے درج کر دیئے اور کہا کہ گھوڑوں کو دانہ ڈالنا، اُن کو پانی پلانا، اُن کو باہر پھر انا یہ سب تمہارے کام ہیں ۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی کام ہے کہ جب میں تھک کر آؤں تو تم مجھے دباؤ، جب میں سفر پر جاؤں تو تمہیں میرے ساتھ جانا ہوگا ، کھانا پکانا بھی تمہارے ذمہ ہوگا ۔ اس طرح ایک ایک کر کے اس نے مختلف کام گنائے اور کہا کہ یہ سب کام تمہارے فرائض میں شامل ہیں۔ نوکر نے کہا مجھے منظور ہیں ۔ چنانچہ اُس نے کام شروع کر دیا۔ ایک دن وہ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں باہر جا رہا تھا کہ نوکر نے گھوڑے کو چھیڑنا شروع کر دیا گھوڑا بھاگ پڑا اور چونکہ آقا گھوڑے کی سواری کا عادی نہ تھا جب گھوڑا بھاگا تو وہ گر گیا اور اُس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا اُس نے نوکر کو آوازیں دینا شروع کر دیں کہ جلدی آنا اور مجھے بچانا ۔ نوکر نے یہ سنا تو اُس نے جھٹ جیب میں سے شرائط کا کاغذ نکال لیا اور کہنے لگا حضور اس میں تو یہ کام میرے ذمہ نہیں لگایا گیا ۔ دیکھ لیں سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں ۔