خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 81
خطابات شوری جلد دوم M مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ایسی رقوم ہوں جنہیں سال یا چھ ماہ تک کے لئے بھیج سکیں تو مجھے بھجوا دیں اور اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر تحریک کریں ۔ اگر اس کے لئے پوری کوشش کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ چند دنوں کے اندر اندر ۵۰،۴۰ ہزار روپیہ کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ جلد سے جلد چندہ تحریک جدید ادا کیا جائے مالی وقت کو دور کرنے کے لئے دوست اس طرح بھی امداد کر سکتے ہیں کہ چندہ تحریک جدید میں جوشستی نظر آتی ہے اُسے چُستی سے بدل دیں۔ اگر کافی رقم آگئی تو اخراجات سے جو زائد ہوگا اُسے سلسلہ کی جائداد کے قیام پر لگا دیا جائے گا۔ پس احباب کو کوشش کرنی چاہئے کہ جلد سے جلد تحریک جدید کا چندہ ادا ہو ۔ اس کی ادائیگی سال کے آخر تک نہ رہنی چاہئے ۔ اس کا بقایا ایسا ہی شرمناک ہے جیسی کہ ناک کٹ جائے کیونکہ اس کے متعلق بار بار کہا گیا ہے کہ جس نے جس قدر ادا کرنا ہو اُسی قدر وعدہ لکھائے اور وعدہ لکھانے یا نہ لکھانے کا اسے اختیار ہے۔ پس جن لوگوں نے اس قدر احتیاط کے بعد چندہ لکھوایا ہو اگر وہ مستی کریں تو انتہاء درجہ کی غفلت پر یہ امر دلالت کرے گا۔ پس دوست تحریک جدید چندے سب کے سب پورے کریں اور جلد سے جلد پورے کریں۔ سوائے اشد مجبوری کے سال تک انتظار نہ کریں ۔ اور میں پھر ایک دفعہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جس نے یوں ہی چندہ لکھوا دیا تھا اور وہ ادا نہیں کر سکتا وہ اب بھی اپنا نام کٹوا دے۔ ورنہ میں تو ایسے شخص کو منافق سمجھنے پر مجبور ہوں گا جس نے اپنی آزاد مرضی سے چندہ لکھوایا بغیر اس کے کہ اُس پر کسی قسم کا جبر کیا گیا ہو اور پھر اپنے وعدہ کو پورا نہ کیا اور اپنے پیدا کرنے والے خدا سے دھوکا کیا۔ یا پھر اُسے ثابت کرنا ہوگا کہ اُس پر کوئی ایسی ناگہانی آفت گری کہ جس کی وجہ سے اس کے لئے چندہ ادا کرنا ناممکن ہو گیا ۔ مگر معمولی عذر اور ایسی مالی تنگی جو عام طور پر ہو ہی جایا کرتی ہے ہرگز کافی عذر تسلیم نہ ہوگا ۔ تبلیغ کے لئے کچھ نہ کچھ عرصہ وقف کیا جائے بتاتا ہوں کے لیے ہمیں یہ چاہتا ہوں تبلیغ کے لئے کچھ نہ کچھ عرصہ وقف کرنے کی تحریک میں نام لکھانے میں غفلت نہ کی جائے سوائے اس کے کہ نہ پھر وہ وقف کرنے کی میں نہ کے کہ جسے چھٹی نہ مل سکے ۔ جیسے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہیں ۔ باقی سب کو اس میں حصہ لینا