خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 71
خطابات شوری جلد دوم ا مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء پوری رقم دکھا کر اس کا پورا کیا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے اس سے پورا اتفاق ہے۔ چونکہ پیر اکبر علی صاحب کہتے رہے ہیں کہ بجٹ کا قاعدہ یہ ہے کہ آمد و خرچ پورا دکھا ئیں اس لئے پورا کیا جاتا رہا ہے۔ ورنہ یونہی آمد پوری دکھا دینے سے کام کرنے والی انسانی جس دبی رہتی ہے ۔ اب بہت لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ بجٹ میں آمد و خرچ پورا درج ہے تو وہ سمجھتے ہیں چلو کام ہو گیا ہمیں کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ اصل خرچ اور اصل آمد دکھائیں اور اگر آمد میں کمی رہے تو پھر پوچھیں کہ اسے پورا کیا جائے ۔ اس احساس کے ساتھ جو دوست یہاں سے جائیں گے وہ پورا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس تجویز کو بھی میں اس کمیٹی کے سپرد کرتا ہوں کہ بجٹ میں آمد و خرچ کی اصل رقوم پیش کی جائیں اور ان میں جو فرق رہے اُسے مجلس مشاورت میں طے کیا جائے۔ بیت المال کا دفتر کاغذات میں نہ پورا کر دیا کرے۔ اس طرح ایک اور نقص بھی ہے جو بے برکتی کا موجب ہوتا ہے۔ ہر سال دفتر بیت المال والے صیغوں میں آمدنی اور خرچ بڑھا کر دکھاتے ہیں تا کہ یہ ظاہر کریں کہ پچھلے سال اتنی آمدنی تھی اور اتنا خرچ اور اب کے اتنی آمد ہوگی اور اتنا خرچ ہوگا۔ یہ جھوٹی خوشی دشمن کو دکھانے کے لئے ظاہر کی جاتی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور اس سے بے برکتی پیدا ہوتی ہے۔ بیرونی جماعتیں بھی خوش ہو جاتی ہیں اور ناظر بیت المال بھی پیٹ پر ہاتھ پھیر کر کہہ دیتے ہیں کہ اب کے ہم نے چار لاکھ روپیہ کا بجٹ بنا دیا۔ ہند و عام طور پر گوشت نہیں کھاتے وہ گوشت کی بوٹی کی طرح کی بڑیاں بنا لیتے ہیں ۔ اور جب پکاتے ہیں تو لالہ للانی آے سے کہتا ہے کہ بوٹی دینا ! اِس طرح وہ اپنا دل خوش کر لیتے ہیں ۔ پس اصل حقیقت کو چھپانا نہیں چاہئے ۔ اگر کمی رہتی ہے تو بے شک دکھاؤ کہ پچھلے سال آمد و خرچ کا بجٹ اتنا تھا مگر اب کے اتنا کم ہے تا کہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہوں اور اپنی اصلاح کریں ۔ (۱۰) ۔ میرے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ امانت فنڈ کو الگ رکھا جائے ۔ بینکنگ کو ہمیشہ الگ رکھا جاتا ہے۔ اس کی آمد اور خرچ دکھایا جائے تاکہ پتہ لگے کہ کام کرنے والے خرچ آمد سے نکالتے ہیں یا نہیں؟ ہم جو نفع حاصل کرتے ہیں اس میں سے وہ خرچ لیا