خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 64
خطابات شوری جلد دوم ۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔ مثلاً یہی سوال ہے کہ جماعتیں اپنا حق ادا نہیں کرتیں یا مرکز ادا نہیں کرتا۔ اس کے لئے جب تک یہ صورت اختیار کی گئی کہ جماعتوں نے کہا ہم سے کوتاہی ہوئی ، ہم اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گی ۔ اسی طرح بیت المال نے کہا کہ ہم سے کوتاہی ہوئی ، ہم اسے دور کرنے کی کوشش کریں گے اور باقی ایک دوسرے کو نصیحت کرنا مجھ پر چھوڑ دیا گیا ہوتا تو بہت اچھی فضا پیدا ہو گئی تھی ۔ مگر اسے ناظر صاحب بیت المال نے کمزور کر دیا۔ وہ جماعتوں کو نصیحت کرنا مجھ پر چھوڑ دیتے۔ میں نہ ناظر ہوں نہ انجمن ، میری بات کا اور اثر ہوتا ۔ میں سمجھتا ہوں نظارتوں کا میری موجودگی میں یہ کام نہیں ہونا چاہئے کہ نصائح کا پہلو لے لیں ۔ ان کو اپنی گفتگو شمار و اعداد تک محدود رکھنی چاہئے ۔ پس انہوں نے اس وقت محکمہ کی خدمت نہیں کی بلکہ کئی ایک جن کی طبائع میں کمزوری ہے وہ اس بحث پر زیادہ زور دیں گے کہ بیت المال نے یہ سستی کی ، یہ کوتاہی کی ۔ اس وقت مختلف تجاویز پیش ہوئی ہیں اور جن کو پیش کرنے کا موقع نہیں ملا انہوں نے مجھے لکھ کر دی ہیں۔ ان تجاویز میں اچھی بھی ہو سکتی ہیں ۔ مگر مجلس میں اس جذبہ کو دبانا چاہئے کہ میری بھی ضرور سنی جائے اس سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اب میں ان تجاویز کا ذکر کرتا ہوں ۔ (۱)۔ ایک بھائی نے لکھا ہے کہ میں بول نہیں سکتا اس لئے لکھ کر دیتا ہوں کہ جو دکاندار با قاعدہ چندہ نہ دیں اُن کے متعلق یہ طریق اختیار کیا جائے کہ جو احمدی ان سے سودا لے وہ قیمت ان کو ادا نہ کرے بلکہ چندہ میں دے دے۔ یہ تجویز بظاہر مفید ہے مگر اس طرح دُکانداروں کو نا دہند بنانا ہے کہ جب تک گاہک نہ آئے چندہ دینا بند کر دیں۔ میں تو انجمن کو بھی یہ حق نہیں دیتا کہ کسی کا حق بغیر فیصلہ قضاء کے جبراً لیا جائے ، پھر دُکانداروں کا حق ان کی مرضی کے خلاف کس طرح کسی اور کو ادا کیا جا سکتا ہے۔ (۲) ۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ نادہند لوگوں کے پاس وفود بھیجے جائیں جو بقائے کی ادائیگی پر زور دیں ۔ چند معززین جائیں اور جا کر سمجھائیں اور بقایا کی ادائیگی پر زور میں اور بقایا کی ادائیگی پر زور دیں ۔ اس طرح بقایا میں سے معقول رقم دس ہیں ، تمہیں فیصدی وصول ہو سکتی ہے۔ اس