خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 709
خطابات شوری جلد دوم ۷۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء میں اس غرض کے لئے پھر وہی کمیٹی مقرر کرتا ہوں جو گزشتہ سال میں نے بجٹ کے لئے مقرر کی تھی ۔ اور جس کے لئے (۱) چوہدری نعمت خاں صاحب (۲) پیراکبر علی صاحب (۳) خان بہادر نواب محمد دین صاحب (۴) بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر ( ۵ ) میر محمد اسماعیل صاحب (۶) مرزا عبد الحق صاحب ( ۷ ) راجہ علی محمد صاحب اور (۸) ملک غلام محمد صاحب ممبر ہیں ۔ چوہدری عبد اللہ خاں صاحب چونکہ بیمار ہیں اس لئے میں اس دفعہ اُن کا نام نہیں رکھتا۔ سلسلہ کے تمام ناظر بھی اس کمیٹی میں شریک ہوں گے۔ ممبران کمیٹی کا فرض ہے کہ ۲۳ رمئی اتوار کے دن قادیان میں پہنچ جائیں تا کہ بجٹ پر غور کیا جاسکے۔ اب اگر چه دوستوں کے سامنے بجٹ پیش نہیں ہو رہا مگر چونکہ جماعت کے دوستوں کی آراء سے ہمیں فائدہ اُٹھانا چاہئے اس لئے بجٹ پر جو عام بحث ہوتی ہے اُس کے متعلق میں احباب کو موقع دیتا ہوں جو دوست اس بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں وہ کر سکتے ہیں ۔“ اس کے بعد نمائندہ لجنہ سمیت چند نمائندگان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد الوداعی تقریر میں احباب جماعت کو نہایت قیمتی نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا :- جس حد تک شوری کے متعلق کارروائی ہو سکتی تھی وہ ہم ختم کر چکے ہیں اور اب صرف میری آخری تقریر اور دعا باقی ہے۔ بجٹ کے متعلق میں اظہار افسوس کر چکا ہوں کہ دو سال سے متواتر یہی ہو رہا ہے کہ بجائے اس کے کہ جماعت کے دوست سلسلہ کے کے دوست سلسلہ اخراجات پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں ، ہم اسے مجلس شوریٰ میں پیش نہیں کر سکتے لیکن بہر حال اس وقت تک جو کچھ ہو چکا ہے اب اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا اور اس کام کو ہم مجلس شوری میں اسی وقت کر سکتے ہیں جب سات آٹھ دن تک ہم اس کو لمبا کر دیں اور یہ امر دوستوں کی رخصتوں کو دیکھتے ہوئے ناممکن ہے۔ اس وقت دوستوں کی طرف سے بجٹ