خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 700
خطابات شوری جلد دوم ٧٠٠ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جائے یا لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے جس میں یہ ذکر ہو کہ فلاں جماعت نے اتنا چندہ دیا ہے اور فلاں جماعت نے اتنا ۔ تو نقص واضح ہو جائے اور جماعتوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا رہے کہ انہوں نے اس چندہ کو با شرح ادا کرنا ہے۔ ورنہ ان کا نام کم چندہ دینے والی جماعتوں میں آجائے گا ۔ جماعت احمد احمدیہ کی دیانت بہر حال چندہ کی وصولی پر زور دینا چاہئے کیونکہ اس کے نتیجہ میں جو لوگ سست ہوں وہ بیدار ہو جاتے ہیں ۔ بعض دوستوں نے کہا ہے کہ سیکرٹریاں مال اس قسم کے چندے بعض دفعہ کچھ عرصہ تک اپنے پاس رکھ چھوڑتے ہیں اور مرکز میں وقت پر روانہ نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں مرکز کو دقت محسوس ہوتی ہے۔ بے شک یہ ایک نقص ہے اور اس کے ازالہ کے لئے ہم ہمیشہ جماعت کو توجہ دلاتے رہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری جماعت میں دیانتداری کی روح نَعُوذُ بِالله کم ہے۔ ہمارے چندوں کی وصولی خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی با قاعدگی سے ہوتی ہے اور پھر ان چندوں کو ایسی دیانتداری کے ساتھ مرکز میں بھیجا جاتا ہے کہ اس کی نظیر کوئی اور جماعت اس وقت پیش نہیں کر سکتی ۔ اور لوگ بڑی بڑی رقموں کا تو کیا ذکر ہے چھوٹی چھوٹی رقمیں بھی دیانتداری کے ساتھ اپنے مرکز میں نہیں بھیجتے اور ہمیشہ یہ شور مچا رہتا ہے کہ فلاں شخص جو چندہ وصول کرنے پر مقرر تھا اتنا روپیہ غبن کر گیا اور فلاں اتنا روپیہ غبن کر گیا مگر ہمارے ہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے چندہ کی وصولی میں اتنی غیر معمولی دیانت پائی جاتی ہے کہ اس زمانہ میں کسی قوم میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی ۔ میں ایک دفعہ شملہ میں تھا کہ ایک بڑے گورنمنٹ افسر نے دعوت کی اور اس میں مجھے بھی مدعو کیا۔ میں نے کہا کہ میں شامل نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسی دعوتوں میں انگریز افسروں کے ساتھ اُن کی بیویاں بھی آجاتی ہیں اور وہ مصافحہ کرنا چاہتی ہیں اور میں نے مصافحہ کرنا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اُنہیں تکلیف ہوتی ہے مگر اُنہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ آپ ضرور شامل ہوں ، ہم آپ کو ایک طرف بٹھا دیں گے ۔ چنانچہ میں اس دعوت میں شریک ہو گیا ۔ مسٹر سٹرک لینڈ کو آپریٹو سوسائٹیز کے ایک انگریز رجسٹرار تھے۔ انہیں جب میرا پتہ لگا تو وہ میرے پاس آبیٹھے اور کہنے لگے کہ ہمارے پاس طاقت بھی ہے حکومت بھی ہے مگر پھر بھی