خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 658
خطابات شوری جلد دوم ۲۰۴ دوست کھڑے ہوئے ۔ پھر فرمایا :- دو جائیں ۔ ۶۵۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ پرانا دستور ہی قائم رہے وہ کھڑے ہو ۶۶ دوست کھڑے ہوئے ۔ حضور نے فرمایا :- فیصلہ ” مجھے اس رائے پر گو پوری تسلی نہیں مگر میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ آئندہ جہاں چالیس یا اس سے زیادہ چندہ دہندہ ممبر ہوں، وہاں کی جماعت کے امیر و نائب امیر اور سیکرٹریوں اور محاسب اور آڈیٹر اور امین کا انتخاب بلا واسطہ نہ ہوگا بلکہ ایک مجلس انتخاب کے ذریعہ سے ہوگا ۔“ یتامی کی خبر گیری مجلس مشاورت کے دوسرے دن یعنی ۲۴ اپریل ۱۹۴۳ء کو دوسرے اجلاس میں سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ :۔ دو قادیان میں دارالشیوخ کا موجودہ انتظام چونکہ قابلِ اعتراض ہے اس لئے مجلس مشاورت ایک کمیٹی مقرر کرے جس کے ممبران اس انتظام کو بہتر بنانے کی تجویز پر غور کریں ۔“ وو 66 چند ممبران کی آراء پیش ہونے اور رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا :- جہاں تک نمائندگان جماعت کا تعلق ہے ان کی تعداد اس وقت ۴۵۰ کے قریب ہے میں نہیں سمجھ سکا کہ باقی دوست کیوں غیر حاضر ہیں بہر حال جماعت کی کثرت رائے کے مطابق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ دارالشیوخ کو صدرانجمن احمدیہ کا ایک شعبہ قرار دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کا نام کیا ہو، یتامی اور مساکین اکٹھے رہیں یا یتامی الگ رہیں اور مساکین الگ، اس شعبہ کے کیا قواعد ہوں اور اس کی مالی ضروریات کس طرح پوری ہوں؟ اس کے متعلق میں صدر انجمن احمد یہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ایک مہینہ کے اندر اندر اس بارہ میں میرے پاس رپورٹ کرے کہ اس شعبہ کا کیا نام رکھا جائے ۔ اس میں داخلہ کے کیا قواعد ہوں اور