خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 628

خطابات شوری جلد دوم ۶۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کاموں کو خطرناک نقصان پہنچانے والا ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کسی کو اپنے کپڑوں میں کمی کرنے کے لئے کہا جائے تو اپنی دس گز کی پگڑی کو تو پانچ گز نہ کرے مگر پاجامہ کے پانچے اُڑا دے۔ سیدھی بات ہے کہ جب پگڑی کو دس گز ہی رکھا جائے گا اور پاجامہ کو نکر میں بدیل کر دیا جائے گا تو ہر شخص اُسے یہ کہنے پر مج پر مجبور ہوگا کہ وہ نیم گریاں نہ پھرے اور پورا پاجامہ ضرور پہنے۔ اسی طرح کمی تو کر دی گئی ہے مگر بجٹ میں یہ کمی اس طرح کی گئی ہے جیسے کسی کا گلا گھونٹ دیا جائے اور اس کی وجہ انجمن کو بھی خوب معلوم ہے کہ وہ جانتی ہے آج تو اس رنگ میں کمی کر کے بظاہر خلیفہ کا حکم پورا کر دیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا آپ کے حکم کی تعمیل کر دی گئی ہے مگر کل ہم اس سے یہ اضافہ منظور کرا لیں گے اور کہیں گے کہ اس کے بغیر سلسلہ کے کام نہیں چل سکتے۔ جیسے پچھلے سال کے بجٹ میں ہی بعض اہم اخراجات صدر انجمن احمد یہ نے غلطی سے درج نہیں کئے تھے بعد میں صدر انجمن احمد یہ نے مجھ سے اپنی اس غلطی کا ذکر کیا اور میں نے اُنہیں اجازت دے دی کہ وہ بجٹ میں ان اخراجات کو سے رکھ لیں مگر اب اس ایزادی کو اس رنگ میں پیش کیا گیا ہے کہ خلیفہ المسیح کی منظوری دوران سال میں اخراجات میں یہ یہ زیادتی کی گئی ہے حالانکہ وہ خود بعض ضروری اخراجات چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے بجٹ کو اپنی غلطی سے نامکمل رکھا تھا پس ان کا فرض تھا کہ یہ غلطی اپنی طرف منسوب کرتے مگر کہا یہ گیا ہے کہ خلیفہ المسیح یہ گیا ہے کہ خلیفہ المسیح کی منظوری سے دوران سال میں اخراجات زیادہ کئے گئے ہیں ۔ یہ اس دفعہ بھی ایسا ہی واقعہ ہوا ہے کہ وہ زیادتیاں تو بجٹ میں کی گئی ہیں جن کا اس قانون کے ماتحت صدر انجمن احمد یہ کو اختیار نہیں تھا بلکہ اس کا فرض تھا کہ مشاورت میں منظوری حاصل کرتی اور پھر بجٹ میں زیادتی کرتی ۔ مگر دوسری طرف اُن زیادتیوں کے ساتھ کوئی ایسا نوٹ نہیں دیا گیا جس سے معلوم ہو کہ وہ زیادتیاں کیوں کی گئی ہیں ۔ مثلاً ہمارا یہ قانون ہے کہ :- ” جس مد یا تفصیل وغیرہ میں کوئی بیشی یا غیر معمولی کمی صیغہ کی طرف سے تجویز کی جاوے تو اُس کے متعلق خانہ کیفیت میں وجہ نوٹ ( قواعد وضوابط صد را نجمن احمد یہ صفحہ ۷۶ ) ہونی چاہئے ۔“ 66